Surah Sad Ayat 71 (38:71)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ 71
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے انسان بناؤں گا۔
Tafseer (Urdu)
{اذ قال ربك للملىكة: جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا۔} کفار مکہ چونکہ حسد اور تکبر کی بنا پرسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے جھگڑتے تھے اس لئے یہاں ایک بار پھر اللہ تعالی نے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی تخلیق اور ابلیس کے سجدہ نہ کرنے کا واقعہ بیان فرمایا تاکہ اسے سن کر وہ عبرت حاصل کریں اور اپنے حسد و تکبر سے باز ا جائیں ۔( تفسیرکبیر ص تحت الایۃ: ۷۱ ۹ / ۴۰۹) یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورہ بقرہ کے چوتھے رکوع میں بیان ہوچکا ہے اور ا س کے علاوہ سورہ اعرافسورہ حجرسورہ بنی اسرائیل اورسورہ کہف میں بھی بیان ہو چکا ہے۔ اس ایت اور اس کے بعد والی سات ایات میں بیان کئے گئے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی سے حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا کروں گاپھر جب میں اس کی پیدائش مکمل کردوں اور اس میں اپنی خاص روح پھونک کر اسے زندگی عطا کردوں تو تم اس کے لیے سجدے میں چلے جانا جب حضرت ادم علیہ الصلوۃ والسلام کی تخلیق کے مراحل مکمل ہوئے تو اللہ تعالی کے حکم سے تمام فرشتو ں نے اکٹھے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے سجدہ نہ کیااس نے تکبر کیا اور وہ اللہ تعالی کے علم میں کافروں میں سے ہی تھا۔ اللہ تعالی نے فرمایا: اے ابلیس! تجھے اس ادم علیہ الصلوۃ والسلام کوسجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جسے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایاکیا تو نے تکبر کیاہے یا تو (پہلے ہی) اس قوم میں سے تھاجن کا شیوہ ہی تکبر ہے۔ ابلیس نے کہا: میں اس سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے پیدا کیا ۔اس سے ابلیس کی مراد یہ تھی کہ اگر حضرت آدم علیہ الصلوۃ والسلام آگ سے پیداکئے جاتے اور میرے برابر بھی ہوتے جب بھی میں انہیں سجدہ نہ کرتا چہ جائیکہ ان سے بہتر ہو کر انہیں سجدہ کروں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا: تو جنت سے نکل جا کہ بیشک تو اپنی سرکشی نافرمانی اور تکبر کے باعث دھتکارا ہوا ہے اور بیشک قیامت تک تجھ پر میری لعنت ہے اور قیامت کے بعد لعنت بھی اور طرح طرح کے عذاب بھی ہیں ۔ پھر اللہ تعالی نے اس کی صورت بدل دی وہ پہلے حسین تھا بدشکل روسیاہ کردیا گیا اور اس کی نورانیت سلب کردی گئی۔( مدارک ص تحت الایۃ: ۷۱-۷۸ ص۱۰۲۷-۱۰۲۸ خازن ص تحت الایۃ: ۷۱-۷۸ ۴ / ۴۷ ملتقطا)