Surah Sad Ayat 8 (38:8)
The Letter Saad · Juz 23 · Makki
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَاؕ-بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْۚ-بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِﭤ 8
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا ہمارے درمیان ان پر قرآن اتارا گیا ؟بلکہ وہ میری کتاب کے بارے شک میں ہیں بلکہ ابھی انہوں نے میرا عذاب نہیں چکھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا ان پر قرآن اتارا گیا ہم سب میں سے بلکہ وہ شک میں ہیں میری کتاب سے بلکہ ابھی میری مار نہیں چکھی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ءانزل علیه الذكر من بیننا: کیا ہمارے درمیان ان پر قرآن اتارا گیا} اہل مکہ نے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے منصب نبوت پر حسد کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں شرف و عزت والے آدمی موجود تھے ان میں سے تو کسی پر قرآن نہیں اترا خاص حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر ہی کیوں اترا حالانکہ وہ ہم سے بڑے اور ہم سے زیادہ عزت والے نہیں ۔ کفار کی ا س بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ ان کا یہ کہنااس وجہ سے نہیں کہ اگر رسول ان کا کوئی شرف و عزت والا ادمی ہوتا تو یہ اس کی پیروی کر لیتے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ لوگ میری کتاب کے بارے شک میں ہیں کیونکہ وہ اسے لانے والے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں اور یہ تکذیب بھی اس وجہ سے نہیں کہ ان کے پاس کوئی دلیل ہے بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ابھی تک انہوں نے میرا عذاب نہیں چکھااگر میرا عذاب چکھ لیتے تو یہ شک تکذیب اور حسد کچھ باقی نہ رہتا اور وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تصدیق کرتے لیکن اس وقت کی تصدیق ان کے لئے مفید نہ ہوتی۔( جلالین ص تحت الایۃ: ۸ ص۳۸۰ مدارک ص تحت الایۃ: ۸ ص۱۰۱۵ ملتقطا) نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت سے دوری کی بنیادی وجہ: اس ایت سے معلوم ہو اکہ کفار مکہ کے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری نہ کرنے کی ایک وجہ دنیوی عزتوجاہت شرافت اور مال دولت کی وسعت تھیاور فی زمانہ بعض مسلمانوں کے اندر بھی اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری سے دوری کی بنیادی وجہ مالی وسعت اور دنیوی عیش و عشرت کے سامان کی کثرت نظر اتی ہے اللہ تعالی انہیں قبر و اخرت کے عذاب سے ڈرنے اور اپنی اطاعت و عبادت کی توفیق عطا فرمائےامین۔