Surah Az Zumar Ayat 32 (39:32)
The Troops · Juz 24 · Makki
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللّٰهِ وَ كَذَّبَ بِالصِّدْقِ اِذْ جَآءَهٗؕ-اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور حق کو جھٹلائے جب وہ اس کے پاس آئے؟ کیا کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور حق کو جھٹلائے جب اُس کے پاس آئے کیا جہنم میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{فمن اظلم ممن كذب على الله: تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔} اس ایت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی کی مخلوق میں سب سے زیادہ ظالم وہ ہے جو اللہ تعالی کے لئے شریک ثابت کرے اور اس کے لئے اولاد قرار دےپھر کہے کہ ہمیں اللہ تعالی نے یہی حکم دیا ہے اور اللہ تعالی کی اس کتاب کو جھٹلائے جو اس نے اپنے حبیب محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر نازل فرمائی ہے اور تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت کا انکار کرے جنہیں اللہ تعالی نے اس کی طرف مبعوث فرمایا ہے اورخود ہی سمجھ لو کہ کیا ایسے ادمی کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہونا چاہیے جو اللہ تعالی کے ساتھ کفر کرے اور رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی تصدیق کرنے سے انکار کرے اور قران پاک کے احکامات کی پیروی کرنے سے منہ موڑے۔ (یقینا جہنم ہی میں اس کا ٹھکانہ ہے۔)( تفسیر طبری الزمر تحت الایۃ: ۳۲ ۱۱ / ۴ ملخصا) اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنے کی صورت: یاد رہے کہ اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنے کی مختلف صورتیں ہیں ایک صورت تو یہاں ایت کی تفسیر میں بیان ہوئی کہ اللہ تعالی کا شریک ٹھہرانا اور اس کے لئے اولاد قرار دینا اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنا ہے اور دوسری صورت بیان کرتے ہوئے علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنے کی صورتوں میں سے ایک صورت یہ بھی ہے کہ اس کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم پر جھوٹ باندھا جائےمثلا یوں کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اس طرح فرمایا یا یہ ان کی شریعت ہے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے نہ اس طرح فرمایا ہو اور نہ ہی وہ چیز ان کی شریعت ہو۔ (صاوی الزمر تحت الایۃ: ۳۲ ۵ / ۱۷۹۷) لہذا جو لوگ اپنی گھڑی ہوئی باتیں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف یا ا ن کی شریعت کی جانب منسوب کرتے ہیں وہ بھی اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنے والوں میں شامل ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں ا س کی ایک عام مثال یہ ہے کہ کچھ لوگ sms یا e-mail وغیرہ کے ذریعے قران پاک اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف جھوٹی باتیں منسوب کر کے عوام میں پھیلاتے ہیں اور انہیں عام کرنے کی لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں اور بعض اوقات عام نہ کرنے پر جھوٹی وعیدیں بھی بیان کر دیتے ہیں ۔عوام الناس کو چاہئے کہ ایات و احادیث اور بزرگان دین کے اقوال وغیرہ پر مشتمل اسلامی sms مستند علماء کرام سے تصدیق کروائے بغیر کسی کو مت بھیجیں کیونکہ اللہ تعالی اور اس کے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے کی وعید بہت سخت ہےجیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’مجھ پر جھوٹ باندھنا کسی اور پر جھوٹ باندھنے کی طرح نہیں ہےجو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے گا تو اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ (بخاری کتاب الجنائز باب ما یکرہ من النیاحۃ علی المیت ۱ / ۴۳۷ الحدیث: ۱۲۹۱) اللہ تعالی ہمیں اپنی اور اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف کوئی بھی جھوٹی بات منسوب کرنے سے بچنے کی توفیق عطافرمائے امین۔