Surah Az Zumar Ayat 41 (39:41)
The Troops · Juz 24 · Makki
اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّۚ-فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَاۚ-وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ 41
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک ہم نے حق کے ساتھ تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کیلئے اتاری تو جس نے ہدایت پائی تو اپنی ذات کیلئے ہی (پائی) اور جو گمراہ ہوا تو اپنی جان کے خلاف ہی گمراہ ہوا اور تم ان پرکوئی ذمہ دار نہیں ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک ہم نے تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کو حق کے ساتھ اُتاری تو جس نے راہ پائی تو اپنے بھلے کو اور جو بہکا وہ اپنے ہی برے کو بہکا اور تم کچھ ان کے ذمہ دار نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{انا انزلنا علیك الكتب للناس بالحق: بیشک ہم نے حق کے ساتھ تم پر یہ کتاب لوگوں کی ہدایت کیلئے اتاری۔} تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو اہل مکہ کے کفر پر اصرار کرنے کی وجہ سے بہت غم ہوتاتھا اس کاا ظہار کرتے ہوئے ایک مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’ فلعلك باخع نفسك على اثارهم ان لم یؤمنوا بهذا الحدیث اسفا‘‘(کہف:۶) ترجمہ کنزالعرفان: اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں تو ہوسکتا ہے کہ تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کو ختم کردو۔ اور ارشاد فرماتاہے: ’’لعلك باخع نفسك الا یكونوا مؤمنین‘‘(شعراء:۳) ترجمہ کنزالعرفان: (اے حبیب!) کہیں اپ اپنی جان کو ختم نہ کردو اس غم میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ اور ارشاد فرماتا ہے: ’’فلا تذهب نفسك علیهم حسرت‘‘(فاطر:۸) ترجمہ کنزالعرفان: تو حسرتوں کی وجہ سے ان پر تمہاری جان نہ چلی جائے۔ اور جب اللہ تعالی نے مضبوط دلائلمثالیں اور وعدہ و وعید بیان کر کے مشرکین کا رد کر دیا اوراس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو سورہ زمر کی ایت نمبر41میں اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہم نے لوگوں کے فائدے اور ان کی ہدایت کے لئے یہ کامل اور عظیم کتاب اپ پر نازل فرمائی ہے اور اسے معجزہ بنا کر نازل کیا ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوئی ہے لہذا جو ہدایت حاصل کرے تو اس راہ یابی کا نفع وہی پائے گا اور جو گمراہ ہوا تو اس کی گمراہی کا نقصان اور وبال اسی پر پڑے گا اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کی یہ ذمہ داری نہیں کہ چارو ناچار انہیں ایمان قبول کرنے پر مجبور کریں بلکہ ایمان قبول کرنا یا نہ کرنا ان مشرکین کے ذمے ہے اپ سے ان کی کوتاہیوں کا مواخذہ نہ ہوگا۔( تفسیرکبیر الزمر تحت الایۃ: ۴۱ ۹ / ۴۵۵ خازن الزمر تحت الایۃ: ۴۱ ۴ / ۵۷ ملتقطا)