Surah Az Zumar Ayat 47 (39:47)
The Troops · Juz 24 · Makki
وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ 47
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگر جو کچھ زمین میں ہے وہ سب اور اس کے ساتھ اس جیسا اوربھی ظالموں کی ملک میں ہوتا تو قیامت کے دن بڑے عذاب سے چھٹکارے کے عوض وہ سب کا سب دیدیتے اور ان کیلئے اللہ کی طرف سے وہ ظاہر ہوگا جس کا انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر ظالموں کے لیے ہوتا جو کچھ زمین میں ہے سب اور اس کے ساتھ اُس جیسا تو یہ سب چھڑائی میں دیتے روز ِ قیامت کے بڑے عذاب سے اور اُنہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہر ہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی۔
Tafseer (Urdu)
{و لو ان للذین ظلموا: اور اگر ظالموں کی ملک میں ہوتا۔} مشرکین کے باطل مذہب کو بیان کرنے کے بعد اس ایت اور اس کے بعد والی ایت میں اللہ تعالی نے ان کے لئے تین وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔ پہلی وعید: اگر بالفرض کافر پوری دنیا کے اموال اور ذخائر کے مالک ہوتے اور اتنا ہی اور بھی ان کے ملک میں ہوتا توقیامت کے دن بڑے عذاب سے چھٹکارے کے عوض وہ سب کا سب دیدیتے تا کہ کسی طرح یہ اموال دے کر انہیں اس عذاب عظیم سے رہائی مل جائے لیکن وہ قبول نہ کیا جائے گا۔ دوسری وعید: بروز قیامت ان کیلئے اللہ تعالی کی طرف سے وہ ظاہر ہوگا جس کا انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اس کامعنی یہ ہے کہ ان کے لئے ایسے ایسے شدید عذاب ظاہر ہوں گے جن کا انہیں خیال بھی نہ تھا۔ تیسری وعید:ان پر ان کے برے اعمال کے اثار ظاہر ہو جائیں گئے جو انہوں نے دنیا میں کئے تھے جیسے اللہ تعالی کے ساتھ شریک کرنا اور اس کے دوستوں پر ظلم کرنا وغیرہ اور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے خبر دینے پر وہ جس عذاب کامذاق اڑایاکرتے تھے وہ نازل ہوجائے گااور مشرکین کو گھیرلے گا۔( تفسیرکبیر الزمر تحت الایۃ:۴۷-۴۸۹ / ۴۵۸ خازن الزمرتحت الایۃ: ۴۷-۴۸ ۴ / ۵۸ روح البیان الزمر تحت الایۃ: ۴۷-۴۸ ۸ / ۱۲۰-۱۲۱ ملتقطا) {و بدا لهم من الله ما لم یكونوا یحتسبون: اور ان کیلئے اللہ کی طرف سے وہ ظاہر ہوگا جس کا انہوں نے سوچا بھی نہیں تھا۔} اس ایت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشرکین گمان کرتے ہوں گے کہ ان کے پاس نیکیاں ہیں لیکن جب نامہ اعمال کھلیں گے تو بدیاں ظاہر ہوں گی۔ (مدارک الزمر تحت الایۃ: ۴۷ ص۱۰۴۱) نیک اعمال کے بارے میں اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر سے ڈرنا چاہئے: یاد رہے کہ اس ایت میں اگرچہ مشرکین کے لئے وعید کا بیان ہے لیکن اس میں مسلمانوں کے لئے بھی عبرت اور نصیحت ہے اور انہیں بھی چاہئے کہ نیک اعمال کے بارے میں اللہ تعالی کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے رہیں ۔ہمارے بزرگان دین اس حوالے سے کس قدر خوفزدہ رہا کرتے تھے اس کی ایک جھلک ملاحظہ ہوچنانچہ حضرت محمد بن منکدر رحمۃاللہ تعالی علیہ کے وصال کا وقت قریب ایا تو اپ گریہ و زاری کرنے لگے ۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمایا’’میرے پیش نظرقران پاک کی ایک ایت ہے جس کی وجہ سے میں بہت خوفزدہ ہوں پھر اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے یہی ایت تلاوت کی اور فرمایا’’ مجھے اس بات کا خوف ہے کہ جنہیں میں نیکیاں شمار کر رہا ہوں کہیں وہ اللہ تعالی کی طرف سے میرے لئے بدیاں بن کر نہ ظاہر ہو جائیں ۔ (مدارک الزمر تحت الایۃ: ۴۷ ص۱۰۴۱) اللہ تعالی ہمارے نیک اعمال کو محفوظ فرمائے اور ان کے بارے میں اپنی خفیہ تدبیر سے ڈرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔