Surah Az Zumar Ayat 67 (39:67)
The Troops · Juz 24 · Makki
وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ﳓ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ 67
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کرنے کا حق تھا اور قیامت کے دن ساری زمین اس کے قبضے میں ہوگی اور اس کی قدرت سے تمام آسمان لپیٹے ہوئے ہوں گے اوروہ ان کے شرک سے پاک اوربلند ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اُنہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کا حق تھا اور وہ قیامت کے دن سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیئے جائیں گے اور اُن کے شرک سے پاک اور برتر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و ما قدروا الله حق قدره: اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔} یعنی اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جو مشرکین اپ کو بتوں کی پوجا کرنے کی دعوت دے رہے ہیں انہوں نے اللہ تعالی کی ویسی قدر نہ کی جیسی اس کی قدر کرنے کا حق تھااسی وجہ سے وہ شرک میں مبتلا ہوئے اگر وہ عظمت الہی سے واقف ہوتے اور اس کا مرتبہ پہچانتے تو ایسا کیوں کرتے!اس کے بعد اللہ تعالی اپنی عظمت و جلال بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ قیامت کے دن ساری زمین اس کے قبضے میں ہوگی اور اس دن کوئی بھی زمین کے کسی حصے پر اپنی ظاہری ملکیت کا دعوی نہ کر سکے گااور اس کی قدرت سے تمام آسمان لپیٹے ہوئے ہوں گے اور اللہ تعالی کافروں کے شرک سے پاک اوربلند ہے۔( تفسیر طبری الزمر تحت الایۃ: ۶۷ ۱۱ / ۲۳-۲۷ روح البیان الزمر تحت الایۃ: ۶۷ ۸ / ۱۳۴-۱۳۵ ملتقطا) یہاں ایت کے اس حصے سے متعلق ایک حدیث پاک ملاحظہ ہوچنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ قیامت کے دن اللہ تعالی آسمان کو لپیٹ کر اپنے دست قدرت میں لے گا پھر فرمائے گا’’ میں ہوں بادشاہ۔ کہاں ہیں جبارکہاں ہیں متکبر ملک و حکومت کے دعویدار پھر زمینوں کو لپیٹ کر اپنے دوسرے دست قدرت میں لے گا اور یہی فرمائے گا ’’میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ( بخاری کتاب التوحید باب قول اللہ تعالی: مالک الناس ۴ / ۵۳۳ الحدیث: ۷۳۸۲ مسلم کتاب صفۃ القیامۃ و الجنۃ والنار ص۱۴۹۹ الحدیث: ۲۴(۲۷۸۸))