Surah Az Zumar Ayat 69 (39:69)
The Troops · Juz 24 · Makki
وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ 69
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی اورکتاب رکھی جائے گی اور انبیاء اور گواہی دینے والے لائے جائیں گے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور زمین جگمگا اُٹھے گی اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیاء اور یہ نبی اور اُس کی اُمت کہ اُن پر گواہ ہونگے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور اُن پر ظلم نہ ہوگا۔
Tafseer (Urdu)
{و اشرقت الارض بنور ربها: اور زمین اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے قیامت کے دن کے5 احوال بیان فرمائے ہیں ان کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ (1)…قیامت کے دن زمین اپنے رب عزوجل کے نور سے بہت تیز روشنی کے ساتھ جگمگا اٹھے گی یہاں تک کہ سرخی کی جھلک نمودار ہوگی اور یہ زمین دنیا کی زمین نہ ہوگی بلکہ نئی ہی زمین ہوگی جسے اللہ تعالی قیامت کے دن کے لئے پیدا فرمائے گا جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے: ’’یوم تبدل الارض غیر الارض‘‘(ابراہیم:۴۸) ترجمہ کنزالعرفان: یاد کروجس دن زمین کو دوسری زمین سے بدل دیا جائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا کہ اس ایت میں جس نور کا ذکر ہے یہ چاند سورج کا نور نہ ہوگا بلکہ یہ اور ہی نور ہوگاجسے اللہ تعالی پیدا فرمائے گا اور اس سے زمین روشن ہوجائے گی۔ (2)… حساب کے لئے اعمال کی کتاب رکھی جائے گی۔ اس کتاب سے مراد یا تو لوح محفوظ ہے کہ جس میں قیامت تک ہونے والے دنیا کے تمام احوال اپنی مکمل تفصیلات کے ساتھ لکھے ہوئے ہیں یا اس سے ہر شخص کا اعمال نا مہ مراد ہے جو اس کے ہاتھ میں ہوگاجیساکہ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: ’’و كل انسان الزمنه طىره فی عنقه-و نخر ج له یوم القیمة كتبا یلقىه منشورا‘‘(بنی اسرائیل:۱۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے میں لگادی ہے اورہم اس کیلئے قیامت کے دن ایک نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔ اور مجرموں کا قول نقل کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’مال هذا الكتب لا یغادر صغیرة و لا كبیرة الا احصىها‘‘(کہف:۴۹) ترجمہ کنزالعرفان: اس نامہ اعمال کو کیاہے کہ اس نے ہر چھوٹے اور بڑے گناہ کو گھیرا ہوا ہے۔ (3)… انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو لایا جائے گا تاکہ وہ لوگوں پر گواہی دیں ۔ان کے بارے میں ایک اور مقام پر ارشادفرمایا گیا: ’’فكیف اذا جئنا من كل امةۭ بشهید و جئنا بك على هؤلآء شهیدا‘‘(النساء:۴۱) ترجمہ کنزالعرفان: تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے حبیب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں گے۔ (4)…گواہی دینے والے لائے جائیں گے جو رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کی تبلیغ کی گواہی دیں گے ۔اس سے متعلق ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالی ہے: ’’و كذلك جعلنكم امة وسطا لتكونوا شهدآء على الناس‘‘(البقرہ:۱۴۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا تا کہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔ (5)…قیامت کے دن لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور ان کے ثواب میں کمی کر کے یا عذاب میں زیادتی کر کے ان پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔(جمل الزمر تحت الایۃ:۶۹ ۶ / ۴۵۰-۴۵۱ تفسیرکبیر الزمر تحت الایۃ: ۶۹ ۹ / ۴۷۷-۴۷۸ روح البیان الزمر تحت الایۃ: ۶۹ ۸ / ۱۴۰ ملتقطا)