Surah Az Zumar Ayat 70 (39:70)
The Troops · Juz 24 · Makki
وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ 70
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور ہر جان کو اس کے اعمال کا بھرپور بدلہ دیا جائے گا اوروہ (اللہ ) خوب جانتا ہے جو لوگ کرتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور ہر جان کو اس کا کیا بھرپور دیا جائے گا اور اسے خوب معلوم ہے جو وہ کرتے تھے۔
Tafseer (Urdu)
{و وفیت كل نفس ما عملت: اور ہر جان کو اس کے اعمال کا بھرپور بدلہ دیا جائے گا۔} یعنی قیامت کے دن ہر جان کو اس کے اچھے یا برے تما م اعمال کا بھرپور بدلہ دیا جائے گا اور اللہ تعالی ان اعمال کوخوب جانتا ہے جو لوگ کرتے ہیں اس سے کچھ مخفی نہیں اورنہ اسے گواہ اور لکھنے والے کی حاجت ہے بلکہ یہ سب لوگوں پر حجت تمام کرنے کیلئے ہوں گے۔(روح البیان الزمر تحت الایۃ: ۷۰ ۸ / ۱۴۰-۱۴۱ جمل الزمر تحت الایۃ: ۷۰ ۶ / ۴۵۱ ملتقطا) گناہ گاروں کے لئے عبرت اور نصیحت: اس ایت مبارکہ میں خاص طور پر ان لوگوں کے لئے بڑی عبرت اور نصیحت ہے جو اللہ تعالی کی نافرمانیوں اور گناہوں میں مصروف ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ قیامت کے دن سے زیادہ طویل دن اور کوئی نہیں اس دن سے زیادہ ہولناک دن اور کوئی نہیں اور اس دن اعمال کا حساب لئے جانے کے مرحلے سے زیادہ خطرناک مرحلہ اور کوئی نہیں اس دن کی دہشت شدت اور ہولناکی بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’فكیف اذا جمعنهم لیوم لا ریب فیه۫-و وفیت كل نفس ما كسبت و هم لا یظلمون‘‘(ال عمران:۲۵) ترجمہ کنزالعرفان: تو کیسی حالت ہوگی جب ہم انہیں اس دن کے لئے اکٹھا کریں گے جس میں کوئی شک نہیں اور ہر جان کو اس کی پوری کمائی دی جائے گی اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔ اور ارشاد فرماتا ہے : ’’فكیف اذا جئنا من كل امةۭ بشهید و جئنا بك على هؤلآء شهیدا یومىذ یود الذین كفروا و عصوا الرسول لو تسوى بهم الارض-و لا یكتمون الله حدیثا‘‘(سورۃ نساء:۴۱ ۴۲) ترجمہ کنزالعرفان: تو کیسا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور اے حبیب! تمہیں ان سب پر گواہ اور نگہبان بناکر لائیں گے۔اس دن کفار اور رسول کی نافرمانی کرنے والے تمنا کریں گے کہ کاش انہیں مٹی میں دبا کر زمین برابر کردی جائے اور وہ کوئی بات اللہ سے چھپانہ سکیں گے۔ لہذا ا س نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر گناہگار کو چاہئے کہ وہ اپنے گناہوں سے باز ا جائے اور اللہ تعالی کی بارگاہ میں اپنے تمام گناہوں سے سچی توبہ کر لے تاکہ قیامت کے دن گناہوں کی سزا سے بچ سکے ۔اللہ تعالی ہمیں گناہوں سے بچنےسابقہ گناہوں سے سچی توبہ کرنے اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔