Surah Ghafir Ayat 10 (40:10)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ 10
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک کافروں کو ندا دی جائے گی کہ یقینا اللہ کی تم سے ناراضی اس سے بڑھ کر ہے جو (آج) تمہیں اپنی جانوں سے ہے کیونکہ جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتاتھا تو تم کفر کرتے تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک جنہوں نے کفر کیا اُن کو ندا کی جائے گی کہ ضرور تم سے اللہ کی بیزاری اس سے بہت زیادہ ہے جیسے تم آج اپنی جان سے بیزار ہو جب کہ تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تو تم کفر کرتے۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین كفروا ینادون: بیشک کافروں کو ندا دی جائے گی۔} اس سے پہلی ایتوں میں ان کافروں کے احوال بیان کئے گئے جو اللہ تعالی کی ایتوں میں جھگڑا کرتے تھے اور اب یہاں سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنے گناہوں کا اور اپنے اوپر نازل ہونے والے عذاب کے حقدار ہونے کا اعتراف کریں گے اور دنیا کی طرف لوٹا دئیے جانے کا سوال کریں گے تاکہ وہ اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرلیں ۔چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن جب کافر جہنم میں داخل ہوں گے اور ان کی بدیاں ان پر پیش کی جائیں گی اور وہ عذاب دیکھیں گے تو اس وقت وہ اپنے اپ پر غصہ کریں گے اور اپنی جانوں سے بیزار ہو جائیں گے اس پر فرشتے ان سے کہیں گے: یقینا اللہ تعالی کا تم پر غضب اور ناراضی اس سے کہیں زیادہ ہے جتنااج تمہیں اپنی جانوں پر غصہ ا رہا ہے اور ان سے تم بیزار ہو رہے ہو کیونکہ جب تمہیں دنیا میں اللہ تعالی کی وحدانیت پرایمان لانے کی طرف بلایا جاتا تو تم اس کا انکار کرتے اور اللہ تعالی کے ساتھ کفرکیا کرتے تھے۔ اس ایت میں اللہ تعالی کی جس ناراضی کا ذکر ہے اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ ناراضی ہے جو اللہ تعالی قیامت کے دن کافروں پر فرمائے گا اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ ناراضی ہے جو اللہ تعالی اس وقت فرماتا تھا جب دنیا میں کافر اللہ تعالی کی وحدانیت کا انکار کرتے اور اس کے ساتھ شرک کیا کرتے تھے۔( تفسیر کبیر المومن تحت الایۃ : ۱۰ ۹ / ۴۹۳- ۴۹۴ خازن حم المومن تحت الایۃ: ۱۰ ۴ / ۶۷ روح البیان المومن تحت الایۃ: ۱۰ ۸ / ۱۶۰-۱۶۱ ملتقطا)