Surah Ghafir Ayat 11 (40:11)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ 11
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariوہ کہیں گے: اے ہمارے رب !تو نے ہمیں دومرتبہ موت دی اور دومرتبہ زندہ کیا تو اب ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے توکیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہیں گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں دوبار مُردہ کیا اور دوبار زندہ کیا اب ہم اپنے گناہوں پر مُقِر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے ۔
Tafseer (Urdu)
{قالوا ربنا: وہ کہیں گے: اے ہمارے رب!۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں فرشتوں کی ندا سن کر کفار کہیں گے :اے ہمارے رب! عزوجل تو نے ہمیں دومرتبہ موت دی اور دومرتبہ زندہ کیا اور اب ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے اور ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرکے جو گناہ کیا کرتے تھے اب ہمیں اس کا اعتراف ہے توکیا جہنم سے نکل کر دنیا کی طرف جانے کا کوئی راستہ ہے تاکہ ہم اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں اور صرف تیری ہی اطاعت کریں اس کا جواب یہ ہوگا کہ تمہارے جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں اور تم جس حال میں اور جس عذاب میں مبتلا ہو اس سے رہائی کی کوئی راہ نہیں پاسکتے ۔ اس عذاب اور اس کے ہمیشہ رہنے کاسبب تمہارا یہ فعل ہے کہ جب اللہ تعالی کی وحدانیت کا اعلان ہوتا اور لا الـہ الا اللہ کہا جاتا تو تم اس کا انکار کرتے اور کفر اختیار کرتے تھے اور اگر اللہ تعالی کے ساتھ شرک کیا جاتا تو تم مان لیتے اور اس شرک کی تصدیق کرتے تھے توجان لو کہ حقیقی حاکم اللہ تعالی ہی ہے جو ایسا بلند ی والا ہے کہ اس سے اور کوئی بلند نہیں اور ایسابڑائی والاہے کہ اس سے اور کوئی بڑا نہیں ۔( تفسیر کبیر المومن تحت الایۃ : ۱۱-۱۲ ۹ / ۴۹۴-۴۹۶ خازن حم المومن تحت الایۃ: ۱۱-۱۲ ۴ / ۶۷-۶۸ مدارک غافر تحت الایۃ: ۱۱-۱۲ ص۱۰۵۳ ملتقطا) دو مرتبہ موت اور دو مرتبہ زندگی دینے سے کیا مراد ہے ایت نمبر11میں دو مرتبہ موت اور دو مرتبہ زندگی دئیے جانے کا ذکر ہوا اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ پہلے وہ بے جان نطفہ تھے اس موت کے بعد انہیں جان دے کر زندہ کیا پھر عمر پوری ہوجانے پر انہیں موت دی پھر اعمال کا حساب دینے اور ان کی جزاپانے کے لئے زندہ کیا۔اس کی دلیل وہ ایت مبارکہ ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا: ’’ كیف تكفرون بالله و كنتم امواتا فاحیاكم-ثم یمیتكم ثم یحییكم ‘‘(بقرہ:۲۸) ترجمہ کنزالعرفان: تم کیسے اللہ کے منکر ہوسکتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے تواس نے تمہیں پیدا کیا پھر وہ تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا۔