Surah Ghafir Ayat 15 (40:15)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
رَفِیْعُ الدَّرَجٰتِ ذُو الْعَرْشِۚ-یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِیُنْذِرَ یَوْمَ التَّلَاقِ 15
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔(اللہ ) بلند درجات دینے والا، عرش کامالک ہے۔ وہ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے ایمان کی جان وحی ڈالتا ہے تا کہ وہ ملنے کے دن سے ڈرائے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبلند درجے دینے والا عرش کامالک ایمان کی جان وحی ڈالتا ہے اپنے حکم سے اپنے بندوں میں جس پر چاہے کہ وہ ملنے کے دن سے ڈرائے۔
Tafseer (Urdu)
{رفیع الدرجت ذو العرش: بلند درجات دینے والا عرش کامالک ہے۔} یہاں سے اللہ تعالی کی عظمت و جلال والی مزید صفات بیان کی جا رہی ہیں چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو اللہ عزوجل تنہا معبود ہےاس کی شان یہ ہے کہ وہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اولیاء اورعلماء رحمۃاللہ تعالی علیہم کو جنت میں بلند درجات دینے والا اورعرش جیسی عظیم چیز کامالک ہے۔وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نبوت کا منصب عطا فرماتا ہے اور جس کو نبی بناتا ہے اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی مخلوق کو قیامت کے دن کا خوف دلائے اور قیامت کا دن وہ ہے جس میں آسمان والے زمین والے اور اولین و آخرین ملیں گے روحیں جسموں سے اور ہر عمل کرنے والا اپنے عمل سے ملے گا۔ رفیع کا ایک معنی مرتفع بھی ہےیعنی اللہ تعالی خود بہت شان اوربلنددرجہ والاہے کہ اللہ تعالی اپنے جمال اور جلال کی تمام صفات میں اور اپنی وحدانیت کے اعتبارسے تمام موجودات میں ہرلحاظ سے بلنداوربرترہے اوروہ ہر چیز سے بے پرواہ ہے اورہم سب اس کے محتاج ہیں ۔(تفسیرکبیر المومن تحت الایۃ : ۱۵ ۹ / ۴۹۷-۴۹۹ خازن حم المومن تحت الایۃ: ۱۵ ۴ / ۶۸ مدارک غافر تحت الایۃ: ۱۵ ص۱۰۵۴ ملتقطا)