Surah Ghafir Ayat 27 (40:27)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور موسیٰ نے کہا: میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر اس متکبر سے جو حساب کے دن پر یقین نہیں رکھتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور موسیٰ نے کہا میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ہر متکبر سے کہ حساب کے دن پر یقین نہیں لاتا۔
Tafseer (Urdu)
{و قال موسى انی عذت بربی و ربكم: اور موسی نے کہا: میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ۔} فرعون کی دھمکیاں سن کر حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم سے فرمایا’’میں متکبروں اور منکرین قیامت کے مقابلے میں اس خدا کی پناہ لیتا ہوں جو میرا اور تمہارا رب ہے ۔ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک جملوں سے حاصل ہونے والے فوائد: حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرعون کی سختیوں کے جواب میں اپنی طرف سے کوئی تکبر والا کلمہ نہ فرمایا بلکہ اللہ تعالی کی پناہ چاہی اور اس پر بھروسہ کیایہی خدا شناسوں کا طریقہ ہے اور اسی لئے اللہ تعالی نے آپ علیہ الصلوۃ و السلام کو ہر ایک بلا سے محفوظ رکھا ۔یہاں حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک جملوں سے معلوم ہونے والی چند فائدہ مند باتیں ملاحظہ ہوں (1)…لفظ ’’انی‘‘ تاکید پر دلالت کرتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ اپنی جان سے افات اور شرور کو دور کرنے کا معتبر اور بہترین طریقہ اللہ تعالی پر اعتماد کرنا اور اس کی حفاظت پر بھروسہ کرنا ہے ۔ (2)…حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:’’میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ‘‘ تو جس طرح قران مجید کی تلاوت کرتے وقت مسلمان جب ’’اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ پڑھتا ہے تو اللہ تعالی اس کے دین اور اخلاص کو شیطان کے وسوسوں سے بچا لیتا ہے بالکل اسی طرح جب افتوں کا سامنا ہو اور انسانی شیطانوں (کی طرف سے تکلیف پہنچائے جانے)کا ڈر ہو اور اس وقت مسلمان یہ کہے ’’اعوذ باللہ‘‘ تو اللہ تعالی اسے ہر افت اور خوف سے بچا لے گا۔ (3)…حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: ’’تمہارے اور اپنے رب کی‘‘ یعنی گویا کہ بندہ یوں کہہ رہا ہے کہ ہر نقص و عیب سے پاک اللہ تعالی ہی وہ ہے جس نے مجھے پالابھلائی کے درجات تک مجھے پہنچایاافات سے مجھے بچایا اور مجھے اتنی نعمتیں عطا کیں جن کی نہ کوئی حد ہے نہ کوئی شمارتو جب اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی حقیقی مددگار نہیں تو عقل مند انسان کو چاہئے کہ وہ افات کو دور کرنے میں اللہ تعالی کی طرف رجوع کرے۔( تفسیرکبیر المومن تحت الایۃ: ۲۷ ۹ / ۵۰۷-۵۰۸) صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :ان مبارک جملوں میں کیسی نفیس ہدایتیں ہیں یہ فرمانا کہ’’ میں تمہارے اور اپنے رب کی پناہ لیتا ہوں ‘‘ اور اس میں (یہ) ہدایت ہے (کہ)رب ایک ہی ہے یہ بھی ہدایت ہے کہ جو اس کی پناہ میں آئے اس پر بھروسہ کرے اور وہ اس کی مدد فرمائے(تو) کوئی اس کو ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ یہ بھی ہدایت ہے کہ اسی پر بھروسہ کرنا شان بندگی ہے اور ’’تمہارے رب ‘‘فرمانے میں یہ بھی ہدایت ہے کہ اگر تم اس پر بھروسہ کرو تو تمہیں بھی سعادت نصیب ہو۔( خزائن العرفان المومن تحت الایۃ: ۲۷ ص۸۶۸) دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کی دعا: دشمنوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے وہ کلمات بھی مفید ہیں جو حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائے اور وہ کلمات بھی انتہائی فائدہ مند ہیں جو سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمائے ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو جب کسی قوم سے خطرہ ہوتا تو اپ یہ دعاارشادفرماتے تھے ’’اللھم انانجعلک فی نحورھم ونعوذ بک من شرورھم‘‘ اے اللہ! عزوجل ان کے مقابلے میں ہم تجھے لاتے ہیں اوران کے شراورفسادسے تیری پناہ میں اتے ہیں ۔( سنن ابوداود کتاب الوتر باب ما یقول الرجل اذا خاف قوما ۲ / ۱۲۷ الحدیث: ۱۵۳۷)