Surah Ghafir Ayat 32 (40:32)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
وَ یٰقَوْمِ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ یَوْمَ التَّنَادِ 32
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اے میری قوم! میں تم پر پکارے جانے کے دن کا خوف کرتا ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اے میری قوم میں تم پر اس دن سے ڈرتا ہوں جس دن پکار مچے گی۔
Tafseer (Urdu)
{و یقوم: اور اے میری قوم!} اس سے پہلی ایات میں ذکر ہو اکہ مرد مومن نے لوگوں کو دنیا کے عذاب سے ڈرایا اور اب یہاں سے یہ بیان کیاجارہا ہے کہ اس مومن نے دنیا کے عذاب کے بعد اخرت کے عذاب سے ڈرایاچنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ مرد مومن نے کہا: اے میری قوم! میں تم پر اس دن کے عذاب کا خوف کرتا ہوں جس دن ہر طرف پکارمچی ہوئی ہوگی اور اس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور اس دن اللہ تعالی کے عذاب سے تمہیں بچانے والا اور تمہاری حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہو گا اور(جو باتیں میں نے تمہارے سامنے کی ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ تم اپنے ارادے سے باز ا جاو اور حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر ایمان لے اومیں نے تمہیں ہر طریقے سے نصیحت کر دی ہے اس کے بعد بھی اگر تم ہدایت حاصل نہیں کرتے تو تمہاری قسمت کیونکہ) جسے اللہ تعالی گمراہ کردے تو اسے نجات کی راہ دکھانے والا کوئی نہیں ۔( مدارک غافر تحت الایۃ: ۳۲-۳۳ ص۱۰۵۸ روح البیان المومن تحت الایۃ: ۳۲-۳۳ ۸ / ۱۸۰-۱۸۱ ملتقطا) قیامت کے دن کو پکار کا دن کہنے کی وجہ: قیامت کے دن کو یوم التناد یعنی پکار کا دن اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس روز طرح طرح کی پکاریں مچی ہوں گی جیسے ہر شخص اپنے گروہ کے سردار کے ساتھ اورہر جماعت اپنے امام کے ساتھ بلائی جائے گی جنتی دوزخیوں کو اور دوزخی جنتیوں کو پکاریں گے سعادت اور شقاوت کی ندائیں کی جائیں گی کہ فلاں سعادت مند ہوا اب کبھی بد بخت نہ ہوگا اور فلاں بدبخت ہوگیا اب کبھی سعادت مندنہ ہوگا اور جس وقت موت ذبح کی جائے گی اس وقت ندا کی جائے گی کہ اے جنت والو! اب تمہیں یہاں ہمیشہ رہنا ہے اور تمہیں موت نہیں ائے گی اور اے جہنم والو!اب تمہیں یہا ں ہمیشہ رہناہے اور تمہیں موت نہیں ائے گی۔( خازن المومن تحت الایۃ: ۳۲ ۴ / ۷۱)