Surah Ghafir Ayat 4 (40:4)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ 4
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑا کرتے ہیں تو اے سننے والے! ان کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکا نہ دے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاللہ کی آیتوں میں جھگڑا نہیں کرتے مگر کافر تو اے سننے والے تجھے دھوکا نہ دے ان کا شہروں میں اَہلے گَہلے پھرنا۔
Tafseer (Urdu)
{ما یجادل فی ایت الله الا الذین كفروا: اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑا کرتے ہیں ۔} یعنی قران مجید کو جھٹلانااس کی ایتوں کا انکار کرناقران کریم پر اعتراض کرنااسے جادوشعرکہانت اور سابقہ لوگوں کی کہانیاں کہنا کافروں کا ہی کام ہے۔ قران مجید کے بارے میں جھگڑا کرنے سے متعلق4 احادیث:۔ اس سے معلوم ہو اکہ قران پاک کے بارے میں جھگڑاکرنا کسی مومن کا کام نہیں بلکہ کافر کا کام ہے ۔ یہاں قرانی ایات میں جھگڑا اور اختلاف کرنے سے متعلق 4احادیث ملاحظہ ہوں (1)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سروردو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔( ابو داود کتاب السنۃ باب النہی عن الجدال فی القران ۴ / ۲۶۵ الحدیث: ۴۶۰۳) (2)…حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’قران مجید میں جھگڑا نہ کرو کیونکہ اس میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔( معجم الکبیر عبد اللہ بن عبد الرحمن عن زید بن ثابت ۵ / ۱۵۲ الحدیث: ۴۹۱۶) (3)…حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : ایک دن میں حضورپر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے دو شخصوں کی آواز یں سنیں جو کسی آیت میں اختلاف کررہے تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہمارے پاس اس طرح تشریف لائے کہ چہرہ انور میں غصہ معلوم ہوتا تھاارشاد فرمایا’’ تم سے پہلے لوگ اللہ تعالی کی ایتوں میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوگئے۔ (مسلم کتاب العلم باب النہی عن اتباع متشابہ القران... الخ ص۱۴۳۳ الحدیث: ۲(۲۶۶۶)) (4)…حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایک جماعت کو قرآن مجید میں جھگڑا کرتے سنا تو ارشاد فرمایا ’’ اس حرکت کی وجہ سے تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوگئے کہ انہوں نے کتاب کے ایک حصے کو دوسرے حصے کے مخالف دکھایا۔ اللہ تعالی کی کتاب تو اس لیے اتری ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کی تصدیق کرے لہذا تم ایک حصے کو دوسرے حصے سے جھٹلاؤ نہیں بلکہ کتاب میں سے جس قدر جانتے ہو اتنا کہو اور جو نہیں جانتے اسے عالم کے سپرد کرو۔( مسند امام احمد مسند عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما ۲ / ۶۱۱ الحدیث: ۶۷۵۳) قران مجید کی ایات کے بارے میں جھگڑا کرنے کی صورتیں : یادرہے کہ قران مجید کی ایات کے بارے میں جھگڑا کرنے کی مختلف صورتیں ہیں جن میں سے بعض صورتیں کفر بعض کفر کے قریب اور حرام ہیں مثلا قرآن پاک کو جادو شعر کہانت اور سابقہ لوگوں کی داستان کہنا جیسا کہ کفار مکہ کہا کرتے تھےیہ کفر ہے۔ یونہی قرآن عظیم کو اپنی رائے کے مطابق بنانے میں جھگڑنا کہ ہر ایک اپنی رائے اور ایجاد کردہ مذہب کے مطابق اس کا ترجمہ یا تفسیر کرے۔ یہ کفر بھی ہوسکتا ہے اور ضلالت و گمراہی بھی ۔اسی طرح بغیر علم کے قران کا مطلب بیان کرنا حرام اور اپنے بیان کردہ مطلب کے درست ہونے پر اصرار مزید حرام ہے۔ نوٹ:ایت اور احادیث میں جو قران کریم میں جھگڑا کرنے کا ذکر ہے اس سے مذکورہ بالا صورتیں مراد ہیں جبکہ مشکل مقامات کو حل کرنے اور پیچیدہ مسائل کو واضح کرنے کے لئے علمی اور اصولی بحثیں کرنا جیسا کہ ممتاز مفسرین اور مجتہدین نے کیا ان کا اس جھگڑے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ بہت بڑی عبادات میں سے ہیں نیز مفسرین اور مجتہدین کا جو اختلاف ہے وہ جھگڑا نہیں بلکہ تحقیق ہے۔ {فلا یغررك تقلبهم فی البلاد: تو اے سننے والے! ان کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکا نہ دے۔} یعنی اے سننے والے! کافروں کا صحت اور سلامتی کے ساتھ اپنے شہروں میں یا ایک ملک سے دوسرے ملک تجارتیں کرتے پھرنا اور نفع پانا تمہارے لئے تردد کا باعث نہ ہو کہ یہ کفر جیسا عظیم جرم کرنے کے بعد بھی عذاب سے امن میں کیوں ہیں کیونکہ ان کا اخری انجام خواری اور عذاب ہے ۔( خازن حم المومن تحت الایۃ: ۴ ۴ / ۶۵-۶۶ مدارک غافر تحت الایۃ: ۴ ص۱۰۵۱ ملتقطا)