Surah Ghafir Ayat 5 (40:5)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَعْدِهِمْ۪-وَ هَمَّتْ كُلُّ اُمَّةٍۭ بِرَسُوْلِهِمْ لِیَاْخُذُوْهُ وَ جٰدَلُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ فَاَخَذْتُهُمْ- فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ 5
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں نے جھٹلایااور ہر امت نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں اور باطل کے ذریعے جھگڑتے رہے تا کہ اس سے حق کومٹا دیں تو میں نے انہیں پکڑلیاتو میرا عذاب کیسا ہوا ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں نے جھٹلایا اور ہر امت نے یہ قصد کیا کہ اپنے رسول کو پکڑ لیں اور باطل کے ساتھ جھگڑے کہ اس سے حق کو ٹال دیں تو میں نے انہیں پکڑا پھر کیسا ہوا میرا عذاب۔
Tafseer (Urdu)
{كذبت قبلهم قوم نوح و الاحزاب من بعدهم: ان سے پہلے نوح کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں نے جھٹلایا۔} اس سے پہلی ایت میں بیان فرمایا گیاکہ کافر وں کا انجام ذلت و خواری اور عذاب میں مبتلا ہونا ہے اور اب یہاں سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ پہلی امتوں میں بھی ایسے حالات گزر چکے ہیں چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ان کفار مکہ سے پہلے حضرت نوح علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم اور ان کے بعد کے گروہوں جیسے عادثمود اور حضرت لوط علیہ الصلوۃ والسلام کی قوم وغیرہ نے اپنے نبیوں اور رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلایااور ان میں سے ہر امت نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کو پکڑ لیں اور اسے شہید کر دیں اور وہ لوگ باطل کے ساتھ جھگڑا کرتے رہے تا کہ اس کے ذریعے اس حق کومٹا دیں جسے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام لے کر ائے ہیں جب انہوں نے اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کو پکڑنے کا ارادہ کیا تو میں نے انہیں پکڑلیاتو اے لوگو! تم ان کے شہروں سے گزرتے ہوئے دیکھ لو کہ ان پر میرا انے والا عذاب کیسا ہوا کیا ان میں کوئی اس عذاب سے بچ سکا۔( خازن حم المومن تحت الایۃ: ۵ ۴ / ۶۶ مدارک غافر تحت الایۃ: ۵ ص۱۰۵۱ ملتقطا) سابقہ امتوں کے احوال میں موجودہ زمانے کے کفار کیلئے عبرت ہے: اس ایت میں سابقہ امتوں کے جو احوال اور اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا جو طرز عمل بیان کیا گیا اور اس بنا پر ان کا جو حال ہوا اس میں اسلام کے ابتدائی زمانے کے کفار اور بعد والے ان تمام لوگوں کے لئے عبرت اور نصیحت ہے جو سابقہ امتوں کی روش پر عمل پیرا ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرما کر اور قران پاک میں اپنی وحدانیت رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت اور اسلام کی حقانیت پر روشن اور مضبوط ترین دلائل بیان فرما کر تمام حجتیں پوری کر دیں اور قیامت تک انے والے کسی بھی فردکے لئے کوئی عذر باقی نہیں چھوڑااس کے باوجود بھی اب کوئی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے اوراللہ تعالی کی وحدانیت اور سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی رسالت کا اقرار کر کے دین اسلام میں داخل نہ ہو بلکہ الٹا باطل کو حق ثابت کرنے کی کوشش کرے تو اسے چاہئے کہ ایسی صورت حال میں اللہ تعالی کے ازلی قانون کے مطابق عذاب الہی کا انتظار کرے۔