Surah Ghafir Ayat 55 (40:55)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ 55
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو تم صبر کرو، بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتواے محبوب تم صبر کرو بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے صبح اور شام اس کی پاکی بولو۔
Tafseer (Urdu)
{فاصبر: توتم صبر کرو۔} اس سے پہلی ایات میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالی اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کی مدد فرمائے گا اور اب یہاں سے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاوں پر صبر کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی ایذا پر صبر کرتے رہیں بے شک اللہ تعالی کا وعدہ سچا ہے اور اس نے جس طرح پہلے رسولوں کی مدد فرمائی اسی طرح وہ آپ کی مدد بھی فرمائے گا آپ کے دین کو غالب کرے گا اور آپ کے دشمنوں کو ہلاک کرے گا نیز اپ اللہ تعالی سے اپنی امت کے گناہوں کی معافی طلب کریں اور اللہ تعالی کی عبادت کرنے پر ہمیشہ قائم رہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ صبح شام اللہ تعالی کی پاکی بولنے سے پانچوں نمازیں مراد ہیں ۔( تفسیر کبیر المومن تحت الایۃ : ۵۵ ۹ / ۵۲۵ خازن حم المومن تحت الایۃ: ۵۵ ۴ / ۷۴ مدارک غافر تحت الایۃ: ۵۵ ص۱۰۶۲ ملتقطا) {و استغفر لذنبك: اور اپنوں کے گناہوں کی معافی چاہو۔} یاد رہے کہ ایت کے اس حصے میں تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ہی خطاب ہونا متعین نہیں بلکہ ا س کا احتمال ہے اور اس صورت میں اس کے جو معنی ہوں گے ان میں سے ایک اوپر بیان ہو اکہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ اپنی امت کے گناہوں کی معافی چاہیں ۔ دوسرے معنی یہ ہوں گے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اگر بالفرض کوئی معصیت واقع ہو تو اس سے استغفار واجب ہے جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :(سورہ مومن اور سورہ محمد کی) دونوں ایت کریمہ میں صیغہ امر ہے اور امر انشا ہے اور انشا وقوع پر دال نہیں تو حاصل اس قدر کہ بفرض وقوع استغفار واجب نہ یہ کہ معاذاللہ واقع ہواجیسے کسی سے کہنا ’’اکرم ضیفک‘‘ اپنے مہمان کی عزت کرنااس سے یہ مراد نہیں کہ اس وقت کوئی مہمان موجود ہے نہ یہ خبر ہے کہ خواہی نخواہی کوئی مہمان ائے گا ہی بلکہ صرف اتنا مطلب ہے کہ اگر ایسا ہوا تو یوں کرنا۔( فتاوی رضویہ ۲۹ / ۴۰۰) اور اس ایت میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس میں خطاب ہر سامع سے ہوجیسا کہ اعلی حضرت رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :سورہ مومن و سورہ محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی آیات کریمہ میں کون سی دلیل قطعی ہے کہ خطاب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ہے مومن میں تو اتنا ہے ’’و استغفر لذنبك‘‘ اے شخص اپنی خطا کی معافی چاہ۔ کسی کا خاص نام نہیں کوئی دلیل تخصیص کلام نہیں قرآن عظیم تمام جہاں کی ہدایت کے لیے اترا نہ صرف اس وقت کے موجودین (کی ہدایت کے لئے) بلکہ قیامت تک کے آنے والوں سے وہ خطاب فرماتا ہے ’’ اقیموا الصلوة ‘‘ نماز برپا رکھو۔ یہ خطاب جیسا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے تھا ویسا ہی ہم سے بھی ہے اور تا قیام قیامت ہمارے بعد آنے والی نسلوں سے بھی۔۔۔ یونہی دونوں سورہ کریمہ میں کاف خطاب ہر سامع کے لیے ہے کہ اے سننے والے اپنے اور اپنے سب مسلمان بھائیوں کے گناہ کی معافی مانگ۔( فتاوی رضویہ ۲۹ / ۳۹۸-۳۹۹) نوٹ:اس مسئلے سے متعلق تفصیلی معلومات حاصل کرنے لئے فتاوی رضویہ جلد 29صفحہ394تا401کا مطالعہ فرمائیں ۔