Surah Ghafir Ayat 56 (40:56)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ بِغَیْرِ سُلْطٰنٍ اَتٰىهُمْۙ-اِنْ فِیْ صُدُوْرِهِمْ اِلَّا كِبْرٌ مَّا هُمْ بِبَالِغِیْهِۚ-فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ 56
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک وہ جو اللہ کی آیتوں میں کسی ایسی دلیل کے بغیرجھگڑا کرتے ہیں جو انہیں ملی ہو ،ان کے دلوں میں نہیں مگر ایک بڑائی کی ہوس جس تک یہ پہنچ نہیں پائیں گے تو تم اللہ کی پناہ مانگو بیشک وہی سنتا دیکھتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں بے کسی سند کے جو انھیں ملی ہو ان کے دلوں میں نہیں مگر ایک بڑائی کی ہوس جسے نہ پہنچیں گے تو تم اللہ کی پناہ مانگو بے شک وہی سنتا دیکھتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین یجادلون فی ایت الله: بیشک وہ جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں ۔} اس ایت میں جھگڑا کرنے والوں سے مراد کفار قریش ہیں یہ لوگ تکبر کیا کرتے تھے اور ان کا یہی تکبر ان کے تکذیب و انکار اور کفر کو اختیار کرنے کاسبب بناکیونکہ انہوں نے یہ گوارا نہ کیا کہ کوئی ان سے اونچا ہو اور یہ فاسد خیال کیا کہ اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو نبی مان لیں گے تو ہماری اپنی بڑائی جاتی رہے گیہمیں امتی اور چھوٹا بننا پڑے گا حالانکہ ہمیں تو بڑا بننے کی ہوس ہے اس لئے انہوں نے سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے دشمنی کی۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :یہ لوگ جس چیز کی ہوس رکھتے ہیں اسے نہ پا سکیں گے اور انہیں بڑائی میسر نہ آئے گی بلکہ حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی مخالفت اور انکار ان لوگوں کے حق میں ذلت اور رسوائی کا سبب ہو گا تو اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ حاسدوں کے مکر اور ان کی سازشوں سے اللہ تعالی کی پناہ مانگیں کیونکہ یقینا وہی ان کے اقوال کو سنتا اور ان کے احوال کو دیکھتا ہے تو وہی ان کے خلاف اپ کی مدد کرے گا اور ان کے شر سے اپ کو بچائے گا۔( تفسیر کبیر المومن تحت الایۃ: ۵۶ ۹ / ۵۲۶ جلالین غافر تحت الایۃ: ۵۶ ص۳۹۴ مدارک غافر تحت الایۃ: ۵۶ ص۱۰۶۲ ملتقطا) ضد بازی اور جھگڑنے کی عادت ادمی کے حق قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ جن لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ ہر معاملے میں اپنی ہی رائے کو حرف اخر سمجھتے ہیں اور اس کے برخلاف کوئی رائے قبول کرنا گوارا نہیں کرتے اور بہرصورت دوسرے کو نیچا ہی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں وہ حق قبول کرنے سے بہت دور ہوتے ہیں ۔