Surah Ghafir Ayat 57 (40:57)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ 57
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش آدمیوں کی پیدائش سے بہت بڑی لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔
Tafseer (Urdu)
{لخلق السموت و الارض: بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش۔} یہ ایت ان لوگوں کے رد میں نازل ہوئی جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرتے تھےاس میں ان پر حجت قائم کی گئی کہ جب تم آسمان و زمین کی اس عظمت اور بڑائی کے باوجود انہیں پیدا کرنے پر اللہ تعالی کو قادر مانتے ہو تو پھر انسان کو دوبارہ پیدا کردینا اس کی قدرت سے کیوں بعید سمجھتے ہو۔( مدارک غافر تحت الایۃ: ۵۷ ص۱۰۶۳ خازن حم المومن تحت الایۃ: ۵۷ ۴ / ۷۵ ملتقطا) {و لكن اكثر الناس لا یعلمون: لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔} یہاں بہت لوگوں سے مراد کفار ہیں اور ان کی طرف سے دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکارکرنے کا سبب ان کی بے علمی ہے کہ وہ یہ تو مانتے ہیں کہ اللہ تعالی آسمان و زمین کی پیدائش پر قادر ہے لیکن اس سے یہ نہیں سمجھتے کہ ایسی قادرذات لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے تو یہ لوگ اندھوں کی مثل ہیں جبکہ ان کے مقابل وہ لوگ جو مخلوقات کے وجود سے خالق کی قدرت پر استدلال کرتے ہیں وہ انکھ والے کی مثل ہیں ۔( خازن حم المومن تحت الایۃ: ۵۷ ۴ / ۷۵ جلالین غافر تحت الایۃ: ۵۷ ص۳۹۵ ملتقطا) { و ما یستوی الاعمى و البصیر: اور اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں ۔} یعنی جاہل اور عالم یکساں نہیں یونہی نیک مومن اور بد کاریہ دونوں بھی برابر نہیں یہ سب جاننے کے باوجود تم کتنی کم ہدایت اور نصیحت حاصل کرتے ہو۔ {ان الساعة لاتیة: بیشک قیامت ضرور آنے والی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک قیامت ضرور انے والی ہے اور اس کے شواہد اتنے واضح ہیں جن کی وجہ سے قیامت انے میں کچھ شک نہیں رہتا لیکن اکثر لوگ (دلائل میں غور وفکر نہ کرنے کی وجہ سے) اس پر ایمان نہیں لاتے اور نہ ہی اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔( روح البیان المومن تحت الایۃ: ۵۹ ۸ / ۱۹۹-۲۰۰ مدارک غافر تحت الایۃ: ۵۹ ص۱۰۶۳ ملتقطا)