Surah Ghafir Ayat 71 (40:71)
The Forgiver · Juz 24 · Makki
اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُؕ-یُسْحَبُوْنَ 71
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariجب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی،وہ گھسیٹے جائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanجب اُن کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں گھسیٹے جائیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{اذ الاغلل فی اعناقهم: جب ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی5ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ جھٹلانے والے کافر اس وقت اپنا انجام جان جائیں گے جب ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی اور وہ ان زنجیروں سے کھولتے پانی میں گھسیٹے جائیں گے پھروہ لوگ آگ میں دہکائے جائیں گے اور وہ آ گ باہر سے بھی انہیں گھیرے ہوگی اور ان کے اندر بھی بھری ہوگی پھر ڈانتے ہوئے ان سے فرمایا جائے گا:وہ بت کہاں گئے جنہیں تم دنیا میں اللہ تعالی کا شریک بناتے اور اللہ تعالی کی بجائے ان کی عبادت کیا کرتے تھے ۔کفارکہیں گے: وہ تو ہماری نگاہوں سے غائب ہو گئے اور ہمیں کہیں نظر ہی نہیں اتے بلکہ ہم پر تو یہ واضح ہو اہے کہ ہم دنیا میں کچھ پوجتے ہی نہ تھے۔کفاربتوں کی پوجا کرنے کا انکار کرجائیں گے پھر بت حاضر کئے جائیں گے اور کفار سے فرمایا جائے گا کہ تم اور تمہارے یہ معبود سب جہنم کا ایندھن ہو ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ جہنمیوں کا یہ کہنا کہ ہم پہلے کچھ پوجتے ہی نہ تھے اس کے یہ معنی ہیں کہ اب ہمیں ظاہر ہوگیا کہ جنہیں ہم پوجتے تھے وہ کچھ نہ تھے کہ کوئی نفع یا نقصان پہنچاسکتے ۔مزید ارشاد فرمایا کہ جس طرح ان کے بت گم ہو گئے اسی طرح اللہ تعالی کافروں کو حق سے گمراہ کرتا ہے۔ اے کافرو!جس عذاب میں تم مبتلا ہویہ اس کا بدلہ ہے جو تم زمین میں شرکبت پرستی اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے پر خوش ہوتے تھے اور اس کا بدلہ ہے جو تم نعمتوں پر اتراتے تھے ۔جاؤ جہنم کے دروازوں میں ! تمہیں اس میں ہمیشہ رہنا ہے تو جہنم ان لوگوں کا کیا ہی برا ٹھکانہ ہے جنہوں نے تکبر کیا اور حق کو قبول نہ کیا۔( خازن حم المومنتحت الایۃ:۷۱-۷۶ ۴ / ۷۸ جلالین غافر تحت الایۃ: ۷۱-۷۶ ص۳۹۵-۳۹۶ مدارک غافر تحت الایۃ: ۷۱-۷۶ ص۱۰۶۵ ملتقطا)