Surah Fussilat Ayat 22 (41:22)
Explained in Detail · Juz 24 · Makki
وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُوْنَ اَنْ یَّشْهَدَ عَلَیْكُمْ سَمْعُكُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُكُمْ وَ لَا جُلُوْدُكُمْ وَ لٰـكِنْ ظَنَنْتُمْ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَعْلَمُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ 22
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تم اس بات سے نہیں چھپ سکتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تم اس سے کہاں چھپ کر جاتے کہ تم پر گواہی دیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں لیکن تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تمہارے بہت سے کام نہیں جانتا۔
Tafseer (Urdu)
{و ما كنتم تستترون: اور تم اس بات سے نہیں چھپ سکتے تھے۔} اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالی کی طرف سے کافروں کو کہا جائے گا کہ اے کافرو! تم چھپ کر گناہ کرتے تھے لیکن اس بات سے نہیں چھپ سکتے تھے کہ تمہارے خلاف تمہارے کان تمہاری آنکھیں اور تمہاری کھالیں گواہی دیں اور تمہیں تو اس کا گمان بھی نہ تھا کیونکہ تم تو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزا ملنے کے سرے ہی سے قائل نہ تھے اور تم تو یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اللہ تعالی تمہارے بہت سے وہ کام نہیں جانتاجو تم چھپا کرکرتے ہو۔( خازن فصلت تحت الایۃ: ۲۲ ۴ / ۸۴ مدارک فصلت تحت الایۃ: ۲۲ ص۱۰۷۳ ملتقطا) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں : ’’ کفار یوں کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالی ظاہر کی باتیں جانتا ہے اور جو ہمارے دلوں میں ہے اسے نہیں جانتا۔( خازن فصلت تحت الایۃ: ۲۲ ۴ / ۸۴) اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کے پاس دوقرشی اورایک ثقفی یا دو ثقفی اورایک قرشی جمع ہوئے یہ بہت موٹے اورجسیم تھے اوران کے دلوں میں سمجھ بوجھ بہت کم تھی ان میں سے ایک نے کہا:کیاتمہارایہ گمان ہے کہ اللہ تعالی ہماری باتیں سن رہاہے دوسرے نے کہا:اگرہم زورسے باتیں کریں گے تو وہ سنے گااوراگراہستہ باتیں کریں گے تووہ نہیں سنے گا۔ایک اور نے کہا:اگروہ ہماری زورسے کی ہوئی باتیں سن سکتاہے تووہ ہماری اہستہ سے کی ہوئی باتیں بھی سن سکتاہے ۔تب اللہ عزوجل نے یہ ایت نازل فرمائی ۔( صحیح بخاریکتاب التفسیرسورۃ حم السجدۃباب وذلکم ظنکم الذی ظننتم بربکم۔۔۔الخ۳ / ۳۱۹الحدیث:۴۸۱۷)