Surah Fussilat Ayat 27 (41:27)
Explained in Detail · Juz 24 · Makki
فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًاۙ-وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ 27
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو بیشک ضرور ہم کافروں کو سخت عذاب چکھائیں گے اور بیشک ہم انہیں ان کے بُرے اعمال کا بدلہ دیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو بے شک ضرور ہم کافروں کو سخت عذاب چکھائیں گے اور بے شک ہم اُن کے بُرے سے بُرے کام کا اُنہیں بدلہ دیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{فلنذیقن الذین كفروا عذابا شدیدا: تو بیشک ضرور ہم کافروں کو سخت عذاب چکھائیں گے۔} کفار مکہ کے طرز عمل کو بیان کرنے کے بعد اس ایت سے اللہ تعالی نے انہیں شدید عذاب سے ڈرایا ہے چنانچہ اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قران مجید کی تلاوت کرتے ہیں اس وقت جو کافر فضول شوروغل کرنے کا کہتے اور کرتے ہیں انہیں اور تمام کافروں کوہم ایساسخت عذاب چکھائیں گے جس کی سختی کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا اور بیشک ہم انہیں ان کے برے اعمال کا بدلہ دیں گے اور کفر کا بدلہ سخت عذاب ہے۔ یہ عذاب اللہ تعالی کے دشمنوں کا بدلہ ہے اور وہ جہنم کی آ گ ہے۔ان کیلئے جہنم میں ایک گھر ہے جس میں یہ ہمیشہ رہیں گے اوراس سے کہیں اور منتقل نہ ہو سکیں گے اور یہ سخت عذاب اس بات کی سزا ہے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے اور ان کی تلاوت ہوتی سن کر فضول شورو غل کیا کرتے تھے ۔( تفسیر کبیر فصلت تحت الایۃ : ۲۷-۲۸ ۹ / ۵۵۹ روح البیان حم السجدۃ تحت الایۃ : ۲۷-۲۸ ۸ / ۲۵۲- ۲۵۳ ملتقطا) اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور قران کا دشمن اللہ تعالی کا دشمن ہے کہ ان کافروں نے قران کی اواز روکنی چاہی تو انہیں اللہ تعالی کا دشمن قرار دیا گیا۔