Surah Fussilat Ayat 30 (41:30)
Explained in Detail · Juz 24 · Makki
اِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک جنہوں نے کہا :ہمارا رب اللہ ہے پھر (اس پر) ثابت قدم رہے ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم نہ ڈرواور نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاؤجس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبے شک وہ جنہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے اُن پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو اس جنت پر جس کا تمہیں وعدہ دیا جاتا تھا۔
Tafseer (Urdu)
{ان الذین قالوا ربنا الله: بیشک جنہوں نے کہا :ہمارا رب اللہ ہے۔} اس سے پہلی ایات میں کافروں کے لئے وعیدیں بیان ہوئیں اور اب یہاں سے ایمان والوں کے لئے وعدہ کا بیان کیا جا رہاہے چنانچہ اس ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالی کے رب ہونے اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا رب صرف اللہ تعالی ہےپھر وہ اس اقرار اور اس کے تقاضوں پر ثابت قدم رہے ان پر اللہ تعالی کی طرف سے فرشتے اترتے ہیں اور انہیں یہ بشارت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم آخرت میں پیش آنے والے حالات سے نہ ڈرواوراہل و عیال وغیرہ میں سے جو کچھ پیچھے چھوڑ ائے اس کا نہ غم کرو اور اس جنت پر خوش ہوجاوجس کا تم سے دنیا میں اللہ تعالی کے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام کی مقدس زبان سے وعدہ کیا جاتا تھا ۔( روح البیان حم السجدۃ تحت الایۃ: ۳۰ ۸ / ۲۵۴-۲۵۵) استقامت کے معنی : اس ایت میں استقامت کا ذکر ہوا ا س مناسبت سے یہاں استقامت کے بارے میں دو احادیث اور خلفائے راشدین کے اقوال ملاحظہ ہوں چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ ایت پڑھی ’’ان الذین قالوا ربنا الله ثم استقاموا‘‘ پھراپ نے فرمایا:لوگوں نے یہ کہایعنی ہمارارب اللہ ہے پھران میں سے اکثرکافرہوگئے ۔تو جوشخص اسی قول (کہ ہمارا رب اللہ ہے) پرڈٹارہاحتی کہ مرگیاوہ ان لوگوں میں سے ہے جو اس قول پر ثابت قدم رہے۔( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ حم السجدۃ ۵ / ۱۶۸ الحدیث: ۳۲۶۱) حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیے کہ میں اپ کے بعد کسی اور سے (اس بارے میں ) سوال نہ کروں ۔ارشاد فرمایا’’تم کہو:میں اللہ تعالی پر ایمان لایاپھر ا س (اقرار) پر ثابت قدم رہو۔( مسلم کتاب الایمان باب جامع اوصاف الاسلام ص۴۰ الحدیث: ۶۲(۳۸)) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے دریافت کیا گیا :استقامت کیا ہے اپ نے فرمایا :استقامت یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا :استقامت یہ ہے کہ بندہ امرونہی (یعنی احکامات پر عمل کرنے اور ممنوعات سے بچنے) پر قائم رہے اورلومڑی کی طرح حیلہ سازیاں کرکے راہ فراراختیارنہ کرے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا :استقامت یہ ہے کہ بندہ عمل میں اخلاص پیدا کرے ۔ حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم نے فرمایا: استقامت یہ ہے کہ بندہ فرائض (کو پابندی کے ساتھ) ادا کرے۔( خازن فصلت تحت الایۃ: ۳۰ ۴ / ۸۵) ان احادیث اور اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کی وحدانیت کے اقرار اور اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے پر ثابت قدم رہے۔ مومن کو دی جانے والی بشارت کا مقام: اس ایت میں فرشتوں کی طرف سے مومن کو بشارت دئیے جانے کا بھی ذکر ہوااس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ موت کے وقت فرشتے اترتے ہیں اور مومن کو اخرت میں پیش انے والے احوال یا ایمان سلب ہونے کا خوف اوراہل و عیال کے چھوٹنے کا یا گناہوں کا غم نہ کرنے کا کہتے اور اسے جنت کی بشارت دیتے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ جب مومن قبروں سے اٹھیں گے تو فرشتے انہیں یہ بشارت دیں گے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مومن کو تین بار بشارت دی جاتی ہے ایک موت کے وقت دوسری قبر میں اورتیسری قبروں سے اٹھنے کے وقت۔( مدارک فصلت تحت الایۃ: ۳۰ ص۱۰۷۵ خازن فصلت تحت الایۃ: ۳۰ ۴ / ۸۵ ملتقطا) ایک قول یہ ہے کہ ایمان والوں پرفرشتے اترتے ہیں اور انہیں دینی اوردنیوی جو مشکلات پیش اتی ہیں ان میں ان کی اس چیز کے ساتھ امدادکرتے ہیں جو ان کے سینوں کو کشادہ کر دے اور الہام کے ذریعے ان کے خوف اور غم کو اسی طرح دورکردیتے ہیں ۔ (روح المعانی فصلت تحت الایۃ: ۳۰ ۱۲ / ۵۱۰)