Surah Fussilat Ayat 33 (41:33)
Explained in Detail · Juz 24 · Makki
وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَاۤ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ 33
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے کہ بیشک میں مسلمان ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں ۔
Tafseer (Urdu)
{و من احسن قولا ممن دعا الى الله: اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے۔} اس سے پہلی ایات میں کفار کے جو اقوال ذکر فرمائے گئے ان سے معلوم ہوتا تھا کہ کفارسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی دعوت حق سے بہت زیادہ منہ موڑتے ہیں جیسے کافروں نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے کہا: ہمارے دل اس بات سے پردوں میں ہیں جس کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو۔( حم السجدہ:۵)اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ ہم اپ کی بات کو قبول نہیں کرتے اور نہ ہی اپ کی دی ہوئی دلیل کی طرف متوجہ ہوں گے۔ یونہی کافروں نے اپنی جہالت کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ’’اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں فضول شوروغل کرو۔( حم السجدہ:۲۶) اور اب گویا کہ یہاں سے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کافروں نے اگرچہ اپ سے بہت دل ازاری والی باتیں کی ہیں لیکن اپ ان کی باتوں اور جاہلانہ حرکتوں کی پرواہ نہ فرمائیں اور مسلسل تبلیغ فرماتے رہیں کیونکہ دین حق کی دعوت دینا سب سے بڑی عبادت اور سب سے اہم اطاعت ہے اور اس سے زیادہ کسی کی بات اچھی نہیں جو اللہ تعالی کی توحید اور عبادت کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں ۔( تفسیرکبیر فصلت تحت الایۃ: ۳۳ ۹ / ۵۶۲ ملتقطا) یہاں دعوت دینے والے سے کون مراد ہےاس کے بارے میں مفسرین کا ایک قول تو یہی ہے کہ اس سے مراد حضورسید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے وہ مومن مراد ہے جس نے نبی علیہ السلام کی دعوت کو قبول کیا اور دوسروں کو نیکی کی دعوت دی اورحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ آیت موذنوں کے حق میں نازل ہوئی اور ایک قول یہ بھی ہے کہ جو کوئی کسی طریقے پر بھی اللہ تعالی کی طرف دعوت دے وہ اس ایت میں داخل ہے ۔( خازن فصلت تحت الایۃ: ۳۳ ۴ / ۸۶) اللہ تعالی کی طرف بلانے کے مراتب: یاد رہے کہ اللہ تعالی کی طرف بلانے کے کئی مرتبے ہیں پہلا مرتبہ: انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کا دعوت دیناکیونکہ یہ معجزاتحجتوںدلیلوں اور تلوار سبھی طریقوں کے ساتھ لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف بلاتے ہیں ۔یہ مرتبہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام ہی کے ساتھ خاص ہے۔ دوسرا مرتبہ:علماء کرام کا دعوت دینا ۔یہ فقط حجتوں اور دلائل کے ساتھ لوگوں کو اللہ تعالی کی طرف دعوت دیتے ہیں اورعلماء تین طرح کے ہوتے ہیں(1)اللہ تعالی کی ذات کی معرفت رکھنے والے (2)اللہ تعالی کی صفات کی معرفت رکھنے والے(3)اللہ تعالی کے احکام کو جاننے والے۔ تیسرامرتبہ :مجاہدین کا دعوت دینا ۔یہ کفار کو تلوارکے ساتھ اللہ تعالی کی طرف بلاتے ہیں اور ان سے جہاد کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ دین میں داخل ہو جائیں اور طاعت قبول کرلیں ۔ چوتھا مرتبہ: اذان دینے والوں کا ہےکیونکہ یہ اذان دے کر لوگوں کو اللہ تعالی کی عبادت یعنی نماز کے لئے بلاتے ہیں ۔(روح البیان حم السجدۃ تحت الایۃ: ۳۳ ۸ / ۲۵۸ تفسیرکبیر فصلت تحت الایۃ: ۳۳ ۹ / ۵۶۳ ملتقطا) مبلغ کے لئے باعمل ہونا ضروری ہے: اس ایت میں جو یہ فرمایا گیا کہ’’اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے‘‘اس سے معلوم ہو اکہ جو شخص لوگوں کو اللہ تعالی پر ایمان لانے اور اس کے دئیے ہوئے احکامات پر عمل کرنے کی دعوت دے رہا ہے وہ خود بھی اللہ تعالی کا اطاعت گزار اور اس کے احکامات پر عمل کرنے والا ہو۔یاد رہے کہ بے عمل مبلغ اللہ تعالی کی سخت ناراضی کا مستحق ہو سکتا ہے جیساکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’یایها الذین امنوا لم تقولون ما لا تفعلون(۲)كبر مقتا عند الله ان تقولوا ما لا تفعلون‘‘(الصف:۲ ۳) ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو! وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی سخت ناپسند یدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو۔ اور ارشاد فرماتا ہے : ’’ اتامرون الناس بالبر و تنسون انفسكم و انتم تتلون الكتب-افلا تعقلون‘‘(بقرہ:۴۴) ترجمہ کنزالعرفان: کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اوراپنے اپ کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں ۔ یونہی بے عمل مبلغ قیامت کے دن جہنم کے عذاب میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے جیسا کہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جنت والوں میں سے کچھ لوگ جہنم والوں میں سے کچھ لوگوں کی طرف جائیں گے تو ان سے کہیں گے: اللہ تعالی کی قسم!ہم تو اسی وجہ سے جنت میں داخل ہو گئے جو تم ہمیں سکھاتے تھے لیکن تم کس وجہ سے جہنم میں داخل ہوئے وہ کہیں گے:ہم جو (تمہیں ) کہتے تھے وہ خود نہیں کرتے تھے۔( معجم الکبیر من اسمہ ولید ولید بن عقبۃ بن ابی معیط۔۔۔ الخ ۲۲ / ۱۵۰ الحدیث: ۴۰۵) حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’قیامت کے دن ایک شخص کولاکردوزخ میں جھونک دیاجائے گااس کی انتڑیاں اس کے پیٹ سے نکل کر بکھر جائیں گی اوروہ ان کے ساتھ اس طرح چکرکاٹ رہاہوگاجس طرح گدھاچکی کے گرد چکر کاٹتا ہے۔ جہنمی اس کے گرد اکٹھے ہوجائیں گے اورکہیں گے :اے فلاں شخص !کیابات ہے کیاتم ہمیں نیکی کاحکم نہیں دیتے اور برائی سے نہیں روکتے تھے وہ کہے گا:(کیوں نہیں !)میں تمہیں تونیکی کاحکم دیتاتھا لیکن خودنیک عمل نہیں کرتاتھااورمیں تمہیں توبرے کاموں سے روکتاتھا لیکن خودبرے کام کرتاتھا(اسی وجہ سے مجھے جہنم میں ڈال دیا گیا ہے)۔( بخاری کتاب بدء الخلق باب صفۃ النار وانہا مخلوقۃ ۲ / ۳۹۶ الحدیث: ۳۲۶۷) اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’میں معراج کی رات ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ہونٹ اگ سے بنی ہوئی قینچیوں کے ساتھ کاٹے جا رہے تھےمیں نے کہا: اے جبریل! علیہ السلام یہ کون لوگ ہیں انہوں نے عرض کی: یہ اپ کی امت میں سے وہ لوگ ہیں جو خطیب (یعنی عالم واعظ اور شاعر) تھےیہ لوگوں کو تو نیک کام کرنے کا حکم دیتے لیکن اپنے اپ کو بھول جاتے تھے حالانکہ یہ قران مجید کی تلاوت کرتے تھے تو کیا انہیں عقل نہیں تھی ۔( شرح السنہ کتاب الرقاق باب وعید من یامر بالمعروف ولا یاتیہ ۷ / ۳۶۲ الحدیث: ۴۰۵۴) لہذا ہر مبلغ کو چاہئے کہ لوگوں کو نیک کاموں کا حکم دینے اور برے کاموں سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی نیک کام کرے اور برے کاموں سے باز رہے تاکہ اللہ تعالی کی ناراضی اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رہے اللہ تعالی ہر مسلمان کو نیک اور با عمل مبلغ بننے کی توفیق عطا فرمائےامین۔ کلام میں تاثیر پیدا ہونے کا ذریعہ: یا درہے کہ کسی بھی مبلغ کے کلام میں تاثیر پیدا ہونے کا بنیادی ذریعہ اس کا با عمل ہونا ہے کیونکہ جو مبلغ خود باعمل ہے تو اس کے حال سے یہ ظاہر ہو رہا ہو ہے کہ اس کا کلام اس کی اپنی ذات پر اثر انداز ہو رہا ہے اور جو مبلغ خودبے عمل ہے تو اس کے حال سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ ا س کا کلام اس کی اپنی ذات پر اثر نہیں کر رہا اور جب ا س کے کلام کا یہ حال ہے تو وہ دوسروں پر کیسے اثر انداز ہو گااسی چیز کو بیان کرتے ہوئے علامہ احمد صاوی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : جو شخص اپنے رب عزوجل کے حکم کو پورا کرے اور ا س کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب کرے اور نیک اعمال کے ساتھ متصف ہو کر (لوگوں کو) اللہ تعالی کی طرف بلائے تو ا س کی بات مانی جائے گی اور اس کا کلام دلوں میں اثر بھی کرے گا اور جس کا حال اس کے بر خلاف ہو تو نہ ا س کی بات مانی جائے گی اور نہ ہی اس کا کلام دلوں میں اثر کرے گا کیونکہ جس کا کلام ا س کی اپنی ذات پر اثر انداز نہیں ہو رہا تو اس کے علاوہ کسی اور پر بدرجہ اولی اثر نہیں کرے گا۔( تفسیر صاوی فصلت تحت الایۃ: ۳۳ ۵ / ۱۸۵۱) لہذا اس اعتبار سے بھی ہر مبلغ کے لئے با عمل ہونا ضروری ہے تاکہ اس کے کلام میںاللہ تعالی تاثیر پیدا فرما دے اور لوگ ا س کی نصیحت و ہدایت سن کر راہ راست پر انا شروع ہو جائیں ۔ مسلمان ہونے کا فقط زبان سے اقرار نہ ہو بلکہ دل میں اس کا اعتقاد بھی ہو: اس ایت کے اخر میں فرمایا گیا کہ’’ اور کہے کہ بیشک میں مسلمان ہوں ‘‘اس سے متعلق یا درہے کہ یہ کہنافقط زبان سے نہ ہو بلکہ دل سے دین اسلام کا اعتقاد رکھتے ہوئے کہے کہ بے شک میں مسلمان ہوں کیونکہ سچا کہنا یہی ہے(خزائن العرفان حم السجدۃ تحت الایۃ: ۳۳ ص۸۸۴ ملخصا)۔[1] [1] ۔۔۔نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کی کتاب ’’نیکی کی دعوت‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔