Surah Fussilat Ayat 34 (41:34)
Explained in Detail · Juz 24 · Makki
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اچھائی اور برائی برابرنہیں ہوسکتی۔ برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو تو تمہارے اور جس شخص کے درمیان دشمنی ہوگی وہ اس وقت ایسا ہوجائے گا کہ جیسے وہ گہرا دوست ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔
Tafseer (Urdu)
{و لا تستوی الحسنة و لا السیئة: اور اچھائی اور برائی برابرنہیں ہوسکتی۔} اس ایت کا ایک معنی یہ ہے کہ نیکی اور گناہ برابر نہیں بلکہ نیکی خیر ہے اور گناہ شر (اور خیر و شر برابر نہیں ہوسکتے۔) دوسرا معنی یہ ہے کہ نیکیوں کے مراتب برابر نہیں بلکہ بعض نیکیاں دوسری نیکیوں سے اعلی ہیں اسی طرح گناہوں کے مراتب برابر نہیں بلکہ بعض گناہ دوسرے گناہوں سے بڑے ہیں تو لوگوں میں بڑے مرتبے والا وہ ہے جو بڑی بڑی نیکیاں کرتا ہے اور بد تر مرتبے والا وہ ہے جو بڑے بڑے گناہ کرتا ہے۔( جلالین مع صاوی فصلت تحت الایۃ: ۳۴ ۵ / ۱۸۵۲) ایت ’’و لا تستوی الحسنة و لا السیئة‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں : (1)… نیکی ہرحال میں ہی نیکی ہے خوا ہ وہ معاشرے کے رسم ورواج کے مطابق ہویانہ ہو اوربرائی برائی ہی ہے چاہے وہ رسم ورواج کے مطابق ہو۔ (2)… صحیح عقیدے والا اور برے عقیدے والا دونوں برابر نہیں ہو سکتے ۔ {ادفع بالتی هی احسن: برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو۔} ارشاد فرمایا کہ تم برائی کو بھلائی کے ساتھ دور کردو مثلا غصے کو صبر سے لوگوں کی جہالت کو حلم سے اور بدسلوکی کو عفو و درگزر سے کہ اگر تیرے ساتھ کوئی برائی کرے تواسے معاف کر دے تو اس خصلت کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن دوستوں کی طرح تجھ سے محبت کرنے لگیں گے ۔شان نزول:کہا گیا ہے کہ یہ آیت ابوسفیان کے بارے میں نازل ہوئی کہ ان کی شدید عداوت کے باوجود نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے ساتھ نیک سلوک کیا اور ان کی صاحبزادی کو اپنی زوجیت کا شرف عطا فرمایا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ابو سفیان تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے سچے محبت کرنے والے اور اپ کے جاں نثار صحابی بن گئے۔( جلالین فصلت تحت الایۃ: ۳۴ ص۳۹۹ خازن فصلت تحت الایۃ: ۳۴ ۴ / ۸۶ ملتقطا) سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مبارک اخلاق: حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے مبارک اخلاق میں برائی کو بھلائی سے ٹال دینے کی انتہائی عالی شان مثالیں موجود ہیں ان میں سے یہاں دو واقعات ملاحظہ ہوں (1)…حضرت عبداللہ بن عبید رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :جب (غزوہ احد میں ) رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ وسلم کے سامنے والے مبارک دانت شہید ہوئے اور اپ کا چہرہ انور لہو لہان ہو گیا تو عرض کی گئی: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان کافروں کے خلاف دعا فرمائیں ۔تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے (کمال صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے) ارشاد فرمایا’’بے شک اللہ تعالی نے مجھے طعنے دینے والا اور لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ مجھے دعوت دینے والا اور رحمت فرمانے والا بنا کر بھیجا ہے (پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے دعا فرمائی) اے اللہ! عزوجل میری قوم کو (دین اسلام کی) ہدایت دے کیونکہ وہ مجھے جانتے نہیں ۔(شعب الایمانالرابع عشر من شعب الایمان۔۔۔الخفصل فی حدب النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی امتہ۔۔۔الخ ۲ / ۱۶۴ الحدیث: ۱۴۴۷) حضرت علامہ قاضی عیاض رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :اس حدیث پاک پر غور کرو کہ اس میں کس قدر فضیلت درجات احسان حسن خلقبے انتہا صبر اور حلم جیسے اوصاف جمع ہیں کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے صرف ان سے خاموشی اختیار کرنے پر ہی اکتفانہیں فرمایا بلکہ ان (زخم دینے والوں ) کو معاف بھی فرما دیاپھر شفقت و محبت فرماتے ہوئے ان کے لئے یہ دعا بھی فرمائی کہ اے اللہ! عزوجل ان کو ہدایت دے پھر اس شفقت و رحمت کا سبب بھی بیان فرمادیا کہ یہ میری قوم ہے پھر ان کی طرف سے عذر بیان فر ما دیا کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔(الشفا القسم الاول الباب الثانی فصل واما الحلم ص۱۰۶ الجزء الاول) بد کریں ہر دم برائی تم کہو ان کا بھلا ہو (2)…حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :میں ایک مرتبہ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ہمراہ چل رہا تھا اور اپ کے اوپر ایک نجرانی چادر تھی جس کے کنارے مو ٹے تھےاتنے میں ایک اعرابی ملا اور اس نے اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی چادر کو پکڑ کر بڑے زور سے کھینچا یہاں تک کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے کندھے پر زور سے چادر کھینچے جانے کی وجہ سے رگڑ کا نشان دیکھا۔ اس اعرابی نے کہا :اے محمد! (صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم) اللہ تعالی نے جو مال اپ کو دیا ہے وہ میرے ان اونٹوں پر لاد دو کیونکہ اپ نہ مجھے اپنے مال سے دیتے ہیں اور نہ ہی اپنے والد کے مال سے دیتے ہیں ۔سید العالمین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم خاموش رہے اور صرف اتنا فرمایا کہ مال تو اللہ تعالی کا ہی ہے اور میں تو ا س کا بندہ ہوں پھر ارشاد فرمایا کہ اے اعرابی:کیا تم سے اس کا بدلہ لیا جائے جو تم نے میرے ساتھ سلوک کیا اس نے عرض کی :نہیں ۔ارشاد فرمایا ’’کیوں نہیں اعرابی نے عرض کی :کیونکہ اپ کی یہ عادت کریمہ ہی نہیں کہ اپ برائی کا بدلہ برائی سے لیں ۔اس کی یہ بات سن کر سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم مسکرا دئیے اور ارشاد فرمایا: ’’اس کے ایک اونٹ کو جو سے اور دوسرے کوکھجور سے بھر دو۔( بخاری کتاب الادب باب التبسم و الضحک ۴ / ۱۲۴ الحدیث: ۶۰۸۸ الشفا القسم الاول الباب الثانی فصل واما الحلم ص۱۰۸ الجزء الاول) دین اسلام کی شاہکار تعلیم: اس ایت سے معلوم ہوا کہ دین اسلام میں مسلمانوں کو اخلاقیات کی انتہائی اعلیجامع اور شاہکار تعلیم دی گئی ہے کہ برائی کو بھلائی سے ٹال دو جیسے کسی کی طرف سے تکلیف پہنچنے تو اس پر صبر کرو کوئی جہالت اور بیوقوفی کا برتاو کرے تواس پر حلم و بردباری کا مظاہرہ کرواوراپنے ساتھ بد سلوکی ہونے پر عفو و درگزر سے کام لو اسی سے متعلق یہاں دو احادیث بھی ملاحظہ ہوں (1)…حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :میں نے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم سے ملاقات کی اور عرض کی کہ مجھے افضل اعمال کے بارے میں بتائیے۔ارشاد فرمایا’’جو تجھے محروم کرے تم اسے عطا کروجو تم سے رشتہ داری توڑے تم اس کے ساتھ رشتہ داری جوڑو اورجو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کر دو۔( معجم الکبیر ما اسند عقبۃ بن عامر۔۔۔ الخ ابو امامۃ الباہلی عن عقبۃ بن عامر ۱۷ / ۲۷۰ الحدیث: ۷۴۰) (2)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’صدقہ مال میں کوئی کمی نہیں کرتا اورمعاف کرنے سے اللہ تعالی بندے کی عزت ہی بڑھائے گا اور جو اللہ تعالی کے لئے عاجزی کرے تو اللہ تعالی اسے بلندی عطا فرمائے گا۔( مسلم کتاب البر والصلۃ والاداب باب استحباب العفو والتواضع ص۱۳۹۷ الحدیث: ۶۹(۲۵۸۸)) یعنی صدقے سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالی اس میں برکت وغیرہ کے ذریعے اضافہ کرتا ہے اور بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجودکسی کا قصورمعاف کرنے سے اللہ تعالی بندے کی عزت بڑھادیتا ہے اور جو اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسے دنیا اور اخرت میں بلندی عطا فرماتا ہے۔