Surah Fussilat Ayat 36 (41:36)
Explained in Detail · Juz 24 · Makki
وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ 36
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور اگرتجھے شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ آئے تو اللہ کی پناہ مانگو۔ بیشک وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اگر تجھے شیطان کا کوئی کونچا پہنچے تو اللہ کی پناہ مانگ بے شک وہی سنتا جانتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اما ینزغنك من الشیطن نزغ: اور اگرتجھے شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ ائے۔} یعنی اے انسان ! اگر شیطان تجھے برائیوں پر ابھارے اور اس نیک خصلت سے اور اس کے علاوہ اور نیکیوں سے منحرف کرنے کی کوشش کرے تو ا س کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ مانگ اور اپنی نیکیوں پر قائم رہ اورشیطان کی راہ اختیار نہ کر اللہ تعالی تیری مدد فرمائے گا بیشک وہی تمہارے پناہ طلب کرنے کو سننے والا اور تمہارے احوال کوجاننے والا ہے۔( جلالین فصلت تحت الایۃ : ۳۶ ص۳۹۹ خازن فصلت تحت الایۃ: ۳۶ ۴ / ۸۶ مدارک فصلت تحت الایۃ: ۳۶ ص۱۰۷۵-۱۰۷۶ ملتقطا) غصہ ختم کرنے کا ایک طریقہ: یا درہے کہ غصہ انے کا ایک سبب شیطان کاوسوسہ ڈالنا ہے اورجب کسی انسان کو غصہ ائے تو اسے چاہئے کہ ’’اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ‘‘پڑھ لے اس سے ان شاءاللہ عزوجل غصہ ختم ہو جائے گاجیساکہ حضرت سلیمان بن صرد رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے قریب دو شخصوں نے ایک دوسرے کو برا بھلا کہا تو ان میں سے ایک کو شدید غصہ ا گیااس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر وہ اسے پڑھ لیتا تو ضرور اس کا غصہ چلا جاتا(وہ کلمہ یہ ہے)’’اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ‘‘ا س شخص نے عرض کی:کیا اپ مجھے مجنون گمان کرتے ہیں اس پر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ ایت تلاوت فرمائی: ’’و اما ینزغنك من الشیطن نزغ فاستعذ بالله-انه هو السمیع العلیم‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: اور اگرتجھے شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ ائے تو اللہ کی پناہ مانگ۔ بیشک وہی سننے والا جاننے والا ہے۔( مستدرک کتاب التفسیر تفسیر سورۃ حم السجدۃ عمل دفع الغضب عن الغضبان ۳ / ۲۳۰ الحدیث: ۳۷۰۱) غصے پر قابو پانے کے دو فضائل: موضوع کی مناسبت سے یہاں غصے پر قابو پانے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں : (1)…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’وہ شخص زوراورنہیں جولوگوں کوپچھاڑدے زوراوروہ شخص ہے جوغصہ کے وقت اپنے اپ کوقابومیں رکھے۔( صحیح بخاری کتاب الادب باب الحذر من الغضب ۴ / ۱۳۰ الحدیث: ۶۱۱۴) (2)…حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’جوشخص اپنے غصہ کے تقاضے کوپوراکرنے پرقادرہواس کے باوجود وہ اپنے غصے کوضبط کرلے توقیامت کے دن اللہ تعالی اس کوتمام مخلوق کے سامنے بلاکرفرمائے گا:تم حور عین میں سے جس حورکوچاہولے لو۔( ابو داود کتاب الادب باب من کظم غیظا ۴ / ۳۲۵ الحدیث: ۴۷۷۷) اللہ تعالی ہمیں غصے سے بچائے اور غصہ انے کی صورت میں ا س پر قابو پانے کی توفیق عطا فرمائےامین۔ غصہ کرنے کے دینی اور دنیوی نقصانات: یہاں حدیث پاک کی مناسبت سے غصہ کرنے کے دینی اور دنیوی6 نقصانات ملاحظہ ہوں (1)…غصہ کرنے والا صبر عاجزی اور انکساری جیسے عظیم اوصاف سے محروم ہو جاتا ہے ۔ (2)…عمومی طور پر غصہ اسی شخص کو اتا ہے جس میں تکبرفخر اور غرور کا مادہ پایاجاتا ہے۔ (3)…غصے کی حالت میں انسان اللہ تعالی کی حدود کی حفاظت نہیں کر پاتا اور انہیں توڑ کراللہ تعالی کی نافرمانی میں مبتلا ہو جاتاہے ۔ (4)…غصہ کرنے سے بندے کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے اور اگر بلڈ پریشر کا مریض غصہ کرے تو اسے فالج بھی ہو سکتا ہے اور اس کے دماغ کی رگ بھی پھٹ سکتی ہے اور یہ دونوں جان لیوا امراض میں سے ہیں ۔ (5)…غصہ کرنے سے لڑائی جھگڑا ہوتا ہے اور بسا اوقات اس میں اتنا اضافہ ہو جاتا ہے جس سے رشتے داریاں ختم ہو جاتی ہیں اور بندہ مخلص دوستوں سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ (6)…غصے کی حالت میں بعض اوقات انسان ایسے کام کر جاتا ہے جو اس کے لئے مستقل پریشانی اور ڈپریشن کا سبب بن جاتے ہیں جیسے غصے کی حالت میں بیوی کو طلاق دے دینا یا کسی کو قتل کر دینا وغیرہ۔ اللہ تعالی ہمیں غصہ کرنے سے بچنے اور غصہ ا جانے کی صورت میں اسے دور کرنے کے اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔