Surah Fussilat Ayat 43 (41:43)
Explained in Detail · Juz 24 · Makki
مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَؕ-اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ 43
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attari۔ (اے حبیب!) آپ کو وہی بات کہی جاتی ہے جو تم سے پہلے رسولوں سے کہی گئی تھی۔ بیشک تمہارا رب بخشش والا اور دردناک عذاب والا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم سے نہ فرمایا جائے مگر وہی جو تم سے اگلے رسولوں کو فرمایاگیا کہ بے شک تمہارا رب بخشش والا اور دردناک عذاب والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{ما یقال لك الا ما قد قیل للرسل من قبلك: اپ کو وہی بات کہی جاتی ہے جو تم سے پہلے رسولوں سے کہی گئی تھی۔} اس ایت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کافروں کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر صبر فرمائیں اور تسلی رکھیں کیونکہ جس طرح اپ کو کافروں نے جادو گر اور کاہن وغیرہ کہا اسی طرح اپ سے پہلے تشریف لانے والے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بھی ان کی قوموں کے کفار نے جادو گر وغیرہ کہا تھا اور اپ کی طرح انہیں بھی جھٹلایا گیا تھابے شک جو توبہ کرے اور ایمان لائے اسے اللہ تعالی بخشنے والاہے اور جو جھٹلانے پر ہی قائم رہے تو اسے اللہ تعالی دردناک عذاب دینے والا ہے اس لئے اپ اپنا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد فرما دیں اور اللہ تعالی نے تبلیغ کا جو حکم فرمایا ہے اپ اس میں مشغول رہیں ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ کواللہ تعالی کی طرف سے وہی بات کہی جاتی ہے جو اپ سے پہلے رسولوں علیہم الصلوۃ والسلام سے کہی گئی تھی کہ اپنی قوم کی جاہلانہ حرکتوں پر صبر فرمائیں ۔ بیشک اپ کا رب عزوجل اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے لئے اور ان پر ایمان لانے والوں کے لئے بخشش والا اور اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے دشمنوں اور تکذیب کرنے والوں کے لئے دردناک عذاب والا ہے۔( تفسیرکبیر فصلت تحت الایۃ : ۴۳ ۹ / ۵۶۹ خازن فصلت تحت الایۃ: ۴۳ ۴ / ۸۷ روح البیان حم السجدۃ تحت الایۃ: ۴۳ ۸ / ۲۷۱ ملتقطا)