Surah Fussilat Ayat 49 (41:49)
Explained in Detail · Juz 25 · Makki
لَا یَسْــٴَـمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ٘-وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَــٴُـوْسٌ قَنُوْطٌ 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariآدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اُکتاتا اور اگراسے کوئی برائی پہنچے تو بہت ناامید ،بڑا مایوس ہوجاتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanآدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اُکتاتا اور کوئی برائی پہنچے تو ناامید آس ٹوٹا۔
Tafseer (Urdu)
{لا یســٴـم الانسان من دعآء الخیر: آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں اکتاتا۔} یعنی کافر انسان ہمیشہ اللہ تعالی سے مال امیری اور تندرستی مانگتا رہتا ہے اور اگر اسے کوئی سختی مصیبت اور معاش کی تنگی پہنچے تو وہ اللہ تعالی کے فضل اور اس کی رحمت سے بہت ناامید اور بڑا مایوس ہوجاتا ہے ۔( خازن فصلت تحت الایۃ: ۴۹ ۴ / ۸۹ مدارک فصلت تحت الایۃ: ۴۹ ص۱۰۷۸ ملتقطا) اللہ تعالی کی رحمت سے مایوسی کافر کا وصف ہے: یاد رہے کہ اللہ تعالی کی رحمت اور ا س کے فضل سے مایوس ہوجانا کافر کا وصف ہے جیسا کہ سورہ یوسف میں ہے: ’’انه لا یایــٴـس من روح الله الا القوم الكفرون‘‘(یوسف:۸۷) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک اللہ کی رحمت سے کافر لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں ۔ مومن کی یہ شان نہیں کہ وہ مصیبتوں پریشانیوں اور تنگدستی کی وجہ سے اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس ہو جائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جو گناہگار ادمی اللہ تعالی کی رحمت کی امید رکھتا ہے وہ اس بندے سے زیادہ اللہ تعالی کی رحمت کے قریب ہوتا ہے جو بڑا عبادت گزار ہونے کے باوجود اللہ تعالی کی رحمت سے مایوس ہوتا ہے اور اللہ تعالی کا اطاعت گزار ہونے کے باوجود یہ امید نہیں رکھتا کہ اسے اللہ تعالی کی رحمت ملے گی۔(مسند الفردوس باب العین فصل من ذوات الالف واللام ۳ / ۱۵۹ الحدیث: ۴۴۲۷) مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی سے اچھی امید رکھنی چاہیے یہ نہیں کہ ادمی عمل کرکے یا بغیر عمل کے بے خوف ہوجائے کہ یہ جرات ہے۔