Surah Fussilat Ayat 51 (41:51)
Explained in Detail · Juz 25 · Makki
وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖۚ-وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ 51
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی طرف دور ہٹ جاتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو (لمبی)چوڑی دعا(مانگنے) والابن جاتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے اور اپنی طرف دُور ہٹ جاتا ہے اور جب اُسے تکلیف پہنچتی ہے تو چوڑی دعا والا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و اذا انعمنا على الانسان اعرض: اورجب ہم آدمی پر احسان کرتے ہیں تو منہ پھیر لیتا ہے۔} اس سے پہلی ایت میں کفار کے قبیح اقوال بیان کئے گئے اور اس ایت میں ان کے قبیح افعال بیان کئے جا رہے ہیں ۔چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جب ہم کافر انسان پر احسان کرتے ہیں تو وہ اس احسان کاشکر ادا کرنے سے منہ پھیر لیتا ہے اور اس نعمت پر اترانے لگتاہے اور نعمت دینے والے پروردگار عزوجل کو بھول جاتا ہے اوراللہ تعالی کی یاد سے تکبر کرتا ہے اور جب اسے کسی قسم کی پریشانی بیماری یا ناداری وغیرہ کی تکلیف پیش آتی ہے تو اس وقت وہ خوب لمبی چوڑی دعائیں کرتا روتا اور گڑگڑاتا ہے اور لگاتار دعائیں مانگے جاتا ہے۔( مدارک فصلت تحت الایۃ: ۵۱ ص۱۰۷۹ ملخصا) راحت میں اللہ تعالی کو بھول جانا اور صرف مصیبت میں دعا کرنا کفار کا طریقہ ہے: کافر کی اس طرح کی حالت کو بیان کرتے ہوئے ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و اذا انعمنا على الانسان اعرض و نا بجانبه-و اذا مسه الشر كان یـٴـوسا‘‘(بنی اسرائیل:۸۳) ترجمہ کنزالعرفان: اور جب ہم انسان پر احسان کرتے ہیں تو وہ منہ پھیرلیتا ہے اور اپنی طرف سے دور ہٹ جاتا ہے اور جب اسے برائی پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ راحت کے دنوں میں اللہ تعالی کو بھول جانا اور صرف مصیبت کے ایام میں دعا کرنا کفار کا طریقہ ہے اور یہ اللہ تعالی کو ناپسند ہے کیونکہ یہاں دعا مانگنے پر عتاب نہیں کیا گیا بلکہ راحت میں دعا نہ مانگنے پر عتاب کیا گیاہے۔نیز یہ عمل مصائب و الام کے وقت مانگی جانے والی دعاوں کے قبول نہ ہونے کا سبب بھی بن سکتا ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جسے یہ بات پسند ہو کہ اللہ تعالی سختیوں اور مصیبتوں میں ا س کی دعا قبول فرمائے تو اسے چاہئے کہ وہ صحت اور کشادگی کی حالت میں کثرت سے دعا کیا کرے۔( ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء ان دعوۃ المسلم مستجابۃ ۵ / ۲۴۸ الحدیث: ۳۳۹۳) لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ راحت میں اسانی میں تنگی میں مشکلات میں اور مصائب و الام کے وقت الغرض ہر حال میں اللہ تعالی سے دعا مانگا کریں اور اس سلسلے میں کافروں کی روش پر چلنے سے بچیں ۔اللہ تعالی عمل کی توفیق عطا فرمائےامین۔ مصیبتوں کا سامنا تسلیم و رضا اور صبر و استقلال سے کریں : اس ایت سے اشارۃ معلوم ہوا کہ بندے پر نازل ہونے والی ہر بلامصیبتنعمترحمت تنگی اور اسانی اللہ تعالی کی طرف سے ہوتی ہے تو اگر بندہ مصائب و الاممشکلاتتنگیوں سختیوں اور اسانیوں وغیرہ کا سامنا تسلیم و رضاصبر واستقلال اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے کرے تو وہ ہدایت پانے والوں اور مقرب بندوں میں سے ہے اور اگر ان کا سامنا کفر کے ساتھ کرے اور مصیبتوں وغیرہ میں شکوہ شکایت کرنا شروع کر دے تو وہ بد بختوں گمراہوں اور اللہ تعالی کی رحمت سے دور ہونے والوں میں سے ہے۔( روح البیان حم السجدۃ تحت الایۃ: ۵۱ ۸ / ۲۸۰ ملخصا) لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ زندگی میں انے والی مشکلات وغیرہ میں اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہیں اور ہر مشکل اورمصیبت میں اچھی طرح صبر کیا کریں ۔حدیث قدسی میں ہےاللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے’’جب میں اپنے بندوں میں سے کسی بندے کی طرف اس کے بدن میں اس کے مال میں یا اس کی اولاد میں کوئی مصیبت بھیجوں پھر وہ ا س مصیبت کا سامنا اچھی طرح صبر کرنے کے ساتھ کرے تو میں قیامت کے دن ا س کے لئے میزان نصب کرنے یا اس کا نامہ اعمال کھولنے سے حیا فرماوں گا۔( مسند شہاب قضاعی اذا وجہت الی عبد من عبیدی مصیبۃ۔۔۔ الخ ۲ / ۳۳۰ الحدیث: ۱۴۶۲) اللہ تعالی ہمیں عافیت نصیب فرمائے اور اگر زندگی میں کوئی مشکل یا مصیبت ائے تو اس پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔