Surah Fussilat Ayat 53 (41:53)
Explained in Detail · Juz 25 · Makki
سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّؕ-اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ 53
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariابھی ہم انہیں آسمان و زمین کی وسعتوں میں اور خود ان کی ذاتوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان کیلئے بالکل واضح ہو جائے گاکہ بیشک وہ ہی حق ہے اورکیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں ؟
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanابھی ہم اُنھیں دکھائیں گے اپنی آیتیں دنیا بھر میں اور خود اُن کے آپے میں یہاں تک کہ ان پر کھل جائے کہ بے شک وہ حق ہے کیا تمہارے رب کا ہر چیز پر گواہ ہونا کافی نہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{سنریهم ایتنا: ابھی ہم انہیں اپنی نشانیاں دکھائیں گے۔} ارشاد فرمایا کہ ابھی ہم کفار قریش کو اسمان و زمین کی وسعتوں میں اور خود ان کی اپنی ذاتوں میں قران کریم کی حقانیت اور اس کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے پر دلالت کرنے والی اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان کیلئے بالکل واضح ہو جائے گاکہ بیشک قران ہی حق ہے اوریہ اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اس میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانےاعمال کا حساب لئے جانے اور ان کے کفر پر انہیں سزا دئیے جانے کا جو بیان ہوا ہے وہ بھی حق ہے اور اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کیا اپ کے رب عزوجل کا ہر چیز پر گواہ ہونا اپ کی سچائی کے لئے انہیں کافی نہیں افاقی نشانیوں کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد سورج چاند ستارے نباتات اور حیوان ہیں کیونکہ یہ سب اللہ تعالی کی قدرت اور حکمت پر دلالت کرنے والے ہیں ۔حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ ان نشانیوں سے مراد گزری ہوئی امتوں کی اجڑی ہوئی بستیاں ہیں جن سے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے والوں کا حال معلوم ہوتا ہے اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ ان نشانیوں سے مشرق و مغرب کی وہ فتوحات مراد ہیں جو اللہ تعالی اپنے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اور ان کے نیاز مندوں کو عنقریب عطا فرمانے والاہے۔ کفار کی ذات میں نشانیوں سے مرادیہ ہے کہ ان کی ہستیوں میں اللہ تعالی کی صنعت اور حکمت کے لاکھوں لطائف اور بے شمار عجائبات موجود ہیں جن سے ظاہر ہے کہ ان چیزوں پر اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی قادر نہیں یا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے بدر میں کفار کو مغلوب کیا اوران پر قہر نازل کرکے خود ان کے اپنے احوال میں اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرادیایا اس سے مراد یہ ہے کہ مکہ مکرمہ فتح فرما کر ان میں اپنی نشانیاں ظاہر کر دیں گے۔( روح البیان حم السجدۃ تحت الایۃ : ۵۳ ۸ / ۲۸۱ جلالین فصلت تحت الایۃ: ۵۳ ص۴۰۱ خازن فصلت تحت الایۃ: ۵۳ ۴ / ۸۹ ملتقطا)