Surah Fussilat Ayat 9 (41:9)
Explained in Detail · Juz 24 · Makki
قُلْ اَىٕنَّكُمْ لَتَكْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ تَجْعَلُوْنَ لَهٗۤ اَنْدَادًاؕ-ذٰلِكَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ 9
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتم فرماؤ: کیا تم اس (اللہ ) کے ساتھ کفر کرتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور تم اس کیلئے شریک ٹھہراتے ہو ۔وہ سارے جہانوں کا رب ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتم فرماؤ کیا تم لوگ اس کا انکار رکھتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی اور اس کے ہمسر ٹھہراتے ہو وہ ہے سارے جہان کا رب۔
Tafseer (Urdu)
{قل: تم فرماؤ۔} اس سے پہلے ایت نمبر6 میں بتایا گیا کہ لوگوں کا معبود صرف ایک ہے اور اب اس ایت سے یہ بتایا جا رہا ہے کہ معبود ہونے میں اللہ تعالی کا کوئی شریک نہیں ہے چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم اپ ان کافروں سے ارشاد فرما دیں کہ کیا تم اس عظمت و شان والے اللہ تعالی کی قدرت کا انکار کر کے اس کے ساتھ کفر کرتے ہو جس نے اپنی قدرت اور حکمت سے اتنی بڑی زمین کو صرف دو دن میں بنا دیا اور تم بتوں اور بے جان مورتیوں کو ایسی قدرت اور حکمت والے رب تعالی کاشریک ٹھہراتے ہو حالانکہ اس کا کوئی شریک ہونا ممکن ہی نہیں اور وہ سارے جہانوں کا رب ہے تو اس کی مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک کس طرح ہو سکتا ہے ۔یاد رکھو کہ صرف اللہ تعالی ہی عبادت کا مستحق ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں کیونکہ سب اس کی مخلوق اور ا س کی ملکیت ہیں ۔( تفسیرکبیر فصلت تحت الایۃ: ۹ ۹ / ۵۴۳-۵۴۴ روح البیان حم السجدۃ تحت الایۃ: ۹ ۸ / ۲۳۲ ملتقطا) نوٹ:یاد رہے کہ زمین کو دو دن میں پیدا فرمانا حکمت کے پیش نظر ہے ورنہ اللہ تعالی کی قدرت ایسی ہے کہ وہ چاہتا تو ایک لمحے سے بھی کم میں پوری زمین بنادیتا ۔