Surah Ash Shura Ayat 17 (42:17)
The Consultation · Juz 25 · Makki
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَؕ-وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب کو اتارا اور میزان کو اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاللہ ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری اور انصاف کی ترازو اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔
Tafseer (Urdu)
{الله الذی انزل الكتب بالحق: اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری۔} یعنی اللہ عزوجل وہی ہے جس نے حق کے ساتھ قرآن پاک نازل کیاجو طرح طرح کے دلائل اور احکام پر مشتمل ہے نیز اس نے اپنی نازل کردہ کتابوں میں عدل کا حکم دیا ہے ۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ میزان سے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ و سلم کی ذات گرامی مرادہے۔( مدارک الشوری تحت الایۃ: ۱۷ ص۱۰۸۵ روح البیان الشوری تحت الایۃ: ۱۷ ۸ / ۳۰۲ ملتقطا) کیونکہ اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم حق و باطل کو جانچنے کا معیار ہیں ۔ {و ما یدریك لعل الساعة قریب: اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔} اس ایت کا شان نزول یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے قیامت کا ذکر فرمایا تو مشرکین نے جھٹلانے کے طور پر کہا کہ قیامت کب قائم ہوگی اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور گویا کہ فرمایا گیا ’’اللہ تعالی نے تمہیں عدل کرنے اور شریعت پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے لہذا تم قران پر عمل کرو اور عدل کرو ا س سے پہلے کہ تم پر تمہارے حساب اور اعمال کا وزن ہونے کا دن اچانک ا جائے۔( خازن الشوری تحت الایۃ: ۱۷ ۴ / ۹۳ مدارک الشوری تحت الایۃ: ۱۷ ص۱۰۸۵ ملتقطا) دنیا کا باقی رہ جانے والا عرصہ بہت کم ہے: یاد رہے کہ اس دنیا کا جو عرصہ کچھ گزر چکا ہے اس کے مقابلے میں وہ عرصہ بہت کم ہے جو ا س دنیا کا باقی رہ گیا ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ اپ عرفات کے مقام میں ٹھہرے ہوئے تھے جب سورج غروب ہونے لگا تو اپ نے ا س کی طرف دیکھا کہ وہ ڈھال کی مانند ہے یہ دیکھ کر اپ بہت شدید روئے اور ’’الله الذی انزل الكتب‘‘ سے لے کر ’’القوی العزیز‘‘ تک ایات تلاوت فرمائیں ۔ اپ کے غلام نے عرض کی’’اے ابو عبد الرحمن!میں اپ کے ساتھ کئی مرتبہ کھڑا ہو اہوں لیکن کبھی اپ نے اس طرح نہیں کیا (اج اپ اتنا کیوں رو رہے ہیں )اپ نے فرمایا’’مجھے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یاد اگئے وہ اسی جگہ کھڑے تھے اور ارشاد فرمایا’’اے لوگو! تمہاری اس دنیا میں سے جو گزر چکا ہے ا س کے مقابلے میں جو باقی ہے وہ اس طرح ہے کہ جو وقت اج کے دن گزر چکا ہے اور جو باقی ہے۔( مستدرککتاب التفسیر تفسیر سورۃ حم عسق اسباب نزول ہاروت وماروت۔۔۔ الخ ۳ / ۲۳۳ الحدیث: ۳۷۰۸) اورحضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’دنیا (کے جانے)اور اخرت(کے انے) کی مثال اس کپڑے کی طرح ہے جو شروع سے اخر تک پھٹ گیا ہو اور اخر میں ایک دھاگے سے لٹک کر رہ گیا ہو عنقریب وہ دھاگہ بھی ٹوٹ جائے گا۔( حلیۃ الاولیاء ذکر تابعی التابعین الفضیل بن عیاض ۸ / ۱۳۸ الحدیث: ۱۱۶۳۰) اورحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالی نے (ابتداء سے لے کر انتہاء تک) پوری دنیا کو تھوڑا بنایا اور اب اس میں سے جو باقی بچا ہے وہ تھوڑے سے بھی تھوڑا ہے اور باقی رہ جانے والے کی مثال اس حوض کی طرح ہے جس کا صاف پانی پی لیا گیا ہو اور(اس کی تہ میں موجود) گدلاپانی باقی رہ گیا ہو۔( مستدرک کتاب الرقاق تمثیل اخر للدنیا ۵ / ۴۵۶ الحدیث: ۷۹۷۴) علامہ عبد الروف مناوی رحمۃاللہ تعالی علیہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں :یعنی دنیا کی مثال ا س بڑے تالاب کی طرح ہے جو پانی سے بھرا ہو ا ہو اور اسے انسانوں اور جانوروں کے پانی پینے کے لئے بنایا گیا ہوپھرپانی پینے والوں کی کثرت کی وجہ سے ا س کا پانی کم ہونا شروع ہو جائے یہاں تک کہ ا س کی تہ میں کیچڑ ہی باقی بچے جس میں جانور لوٹ پوٹ ہوتے ہوں تو عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ دنیا پر مطمئن نہ ہو اور نہ ہی یہ بات واضح ہو جانے کے بعد دنیا سے دھوکہ کھائے کہ یہ بہت جلد زائل ہو جانے والی ہے اور ا س کا اچھا حصہ گزر چکا ہے اور موت ضرور انے والی ہے۔( فیض القدیر حرف الہمزۃ ۲ / ۲۷۹ تحت الحدیث: ۱۷۱۰ ملخصا) اورحضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جن چیزوں (میں مبتلا ہونے)کا میں اپنی امت پر خوف کرتا ہوں ان میں سے زیادہ خوفناک نفسانی خواہش اور لمبی امید ہے ۔ نفسانی خواہش بندے کو حق سے روک دیتی ہے اورلمبی امید آخرت کوبھلا دیتی ہے اور یہ دنیا کوچ کرکے جارہی ہے اور یہ آخرت کوچ کرکے آرہی ہے۔ ان دونوں میں سے ہر ایک کے طلبگار ہیں اگر تم یہ کرسکو کہ دنیا کے طلبگار نہ بنو تو ایساہی کرو کیونکہ تم آج عمل کرنے کی جگہ میں ہو جہاں حساب نہیں (اس لئے جو چاہو عمل کر لو) جبکہ کل تم آخرت کے گھر میں ہو گے جہاں عمل نہ ہوگا(بلکہ اعمال کا حساب دینا ہو گا)۔( شعب الایمان الحادی والسبعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۷ / ۳۷۰ الحدیث: ۱۰۶۱۶) حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : ایک دن نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا’’ آگاہ رہو کہ دنیا موجودہ سامان ہے جس سے نیک اور بد سبھی کھاتے ہیں ۔ آگاہ رہو کہ آخرت سچا وعدہ ہے جس میں قدرت والا بادشاہ فیصلہ فرمائے گا۔ خبردار! ساری راحت اپنے کناروں سمیت جنت میں ہے اور پوری مصیبت اپنے کناروں سمیت جہنم کی آگ میں ہے ۔ خبر دار! تم اللہ سے ڈرتے ہوئے نیک عمل کیا کرو (کہ نہ معلوم یہ عمل قبول ہوں یا نہ ہوں ) اور یاد رکھو! تم پر تمہارے اعمال پیش کیے جائیں گے توجو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھ لے گا اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھ لے گا۔(سنن الکبری للبیہقی کتاب الجمعۃ باب کیف یستحب ان تکون الخطبۃ ۳ / ۳۰۶ الحدیث: ۵۸۰۸) اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم اس باقی رہ جانے والے عرصے کو غنیمت جانتے ہوئے فوری طور پر اللہ تعالی اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے دئیے ہوئے احکامات پرعمل پیراہوجائیں اور جن چیزوں سے ہمیں منع کیا گیا ہے ان سے بازا جائیں اور دنیا کی قلیل زندگی سے دھوکہ کھا کر اپنی اخرت کی نہ ختم ہونے والی زندگی کو خراب نہ کر لیں ۔اللہ تعالی ہمیں نیک اعمال میں جلدی کرنے اور تاخیر کی افت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔