Surah Ash Shura Ayat 29 (42:29)
The Consultation · Juz 25 · Makki
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍؕ-وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ ٛ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور ان میں جو جانداراس نے پھیلائے ہیں سب اس کی نشانیوں میں سے ہیں اور وہ ان سب کو اکٹھا کرنے پرجب چاہے قادر ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اُس کی نشانیوں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو چلنے والے ان میں پھیلائے اور وہ ان کے اکٹھا کرنے پر جب چاہے قادر ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و من ایته: اور اس کی نشانیوں سے ہے۔} یعنی اللہ تعالی کی وحدانیت کے دلائل اور اس کی قدرت کے عجائبات میں سے زمین و اسمان کی پیدائش ہےکیونکہ یہ دونوں اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے اپنے خالق کی قدرت اور کمالات پر دلالت کرتے ہیں ۔ان نشانیوں کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’افلم ینظروا الى السمآء فوقهم كیف بنینها و زینها و ما لها من فروج(۶)و الارض مددنها و القینا فیها رواسی و انبتنا فیها من كل زوجۭ بهیج(۷) تبصرة و ذكرى لكل عبد منیب‘‘(ق:۶۔۸) ترجمہ کنزالعرفان: تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ہم نے اسے کیسے بنایا اور سجایا اور اس میں کہیں کوئی شگاف نہیں ۔ اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں بڑے بڑے پہاڑ ڈالے اور اس میں ہر بارونق جوڑا اگایا۔ ہر رجوع کرنے والے بندے کیلئے بصیرت اور نصیحت کیلئے۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے جو زمین پر چلنے والے انسان اور دیگر جاندار پیدا فرمائے ہیں یہ سب بھی اس کی قدرت اور وحدانیت کی نشانیوں میں سے ہیں اور اللہ تعالی جب اور جس وقت چاہے ان سب کو حشر کے لئے اکٹھا کرنے پر قادر ہے۔( جلالین مع صاوی الشوری تحت الایۃ: ۲۹ ۵ / ۱۸۷۴ ملخصا)