Surah Ash Shura Ayat 30 (42:30)
The Consultation · Juz 25 · Makki
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍﭤ 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تووہ معاف فرمادیتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے۔
Tafseer (Urdu)
{و ما اصابكم من مصیبة: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی۔} اس ایت میں ان مکلف مومنین سے خطاب ہے جن سے گناہ سرزد ہوتے ہیں اور مراد یہ ہے کہ دنیا میں جو تکلیفیں اور مصیبتیں مومنین کو پہنچتی ہیں اکثران کا سبب ان کے گناہ ہوتے ہیں ان تکلیفوں کو اللہ تعالی ان کے گناہوں کا کفارہ کردیتا ہے اور کبھی مومن کی تکلیف اس کے درجات کی بلندی کے لئے ہوتی ہے۔ مصیبتیں انے کا ایک سبب: اس ایت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر انے والی مصیبتوں کا ایک سبب ان کا اللہ تعالی کی نافرمانی اور گناہ کرنا ہےاگر یہ اللہ تعالی کی اطاعت کرتے رہیں تو مصیبتوں سے بچ سکتے ہیں جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا’’ (اے لوگو!) تمہارا رب عزوجل ارشاد فرماتا ہے ’’اگر میرے بندے میری اطاعت کریں تو میں انہیں رات میں بارش سے سیراب کروں گا دن میں ان پر سورج کو طلوع کروں گا اور انہیں کڑک کی اواز تک نہ سناوں گا۔( مسند امام احمد مسند ابی ہریرۃرضی اللہ عنہ ۳ / ۲۸۱ الحدیث: ۸۷۱۶) نیز انہیں چاہئے کہ ان پر اپنے ہی اعمال کی وجہ سے جو مصیبتیں ا تی ہیں ان میں بے صبری اور شکوہ شکایت کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ انہیں اپنے گناہوں کا کفارہ سمجھتے ہوئے صبر و شکر سے کام لیں ترغیب کے لئے یہاں گناہوں کی وجہ سے انے والی مصیبتوں سے متعلق اور ان مصیبتوں کے گناہوں کا کفارہ ہونے کے بارے میں 5احادیث ملاحظہ ہوں (1)…حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ تعالی معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ ایت تلاوت فرمائی ’’و ما اصابكم من مصیبة فبما كسبت ایدیكم و یعفوا عن كثیر‘‘۔(ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ الشوری۔۔۔ الخ ۵ / ۱۶۹ الحدیث: ۳۲۶۳) (2)…حضرت ثوبان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےحضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’نیک کاموں سے عمر بڑھتی ہےدعا تقدیر کو ٹال دیتی ہے اور بے شک ادمی اپنے کسی گناہ کی وجہ سے رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔( ابن ماجہ کتاب الفتن باب العقوبات ۴ / ۳۶۹ الحدیث: ۴۰۲۲) (3)…حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہےرسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’لکڑی کی خراش لگناقدم کا ٹھوکر کھانا اور رگ کا پھڑکنا کسی گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور جو گناہ اللہ تعالی معاف فرما دیتا ہے وہ ا س سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں ۔پھر اپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے یہ ایت تلاوت فرمائی ’’ و ما اصابكم من مصیبة فبما كسبت ایدیكم و یعفوا عن كثیر‘‘۔(کنزالعمال کتاب الاخلاق قسم الافعال الصبر علی البلایا مطلقا ۲ / ۳۰۴ الجزء الثالث الحدیث: ۸۶۶۶) (4)… حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’مومن کو کانٹا چبھنے یا اس سے بڑی کوئی تکلیف پہنچتی ہے توا س کی وجہ سے اللہ تعالی اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے یا ا س کی ایک خطا مٹادیتا ہے۔( مسلم کتاب البر والصلۃ والاداب باب ثواب المومن فیما یصیبہ۔۔۔ الخ ص۱۳۹۱ الحدیث: ۴۷(۲۵۷۲)) (5)…حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےنبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کی بیماری ا س کے گناہوں کے لئے کفارہ ہوتی ہے۔( شعب الایمان السبعون من شعب الایمان ۔۔۔ الخ فصل فی ذکر ما فی الاوجاع و الامراض ۔۔۔ الخ ۷ / ۱۵۸ الحدیث: ۹۸۳۵) اللہ تعالی ہمیں اپنی اطاعت میں مصروف رہنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائےمشکلات اور مصائب سے ہماری حفاظت فرمائے اور انے والی مشکلات پر صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔ تناسخ کے قائلین کا رد: یاد رہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام جو کہ گناہوں سے پاک ہیں اور چھوٹے بچے جو کہ مکلف نہیں ہیں ان سے اس ایت میں خطاب نہیں کیا گیا اوربعض گمراہ فرقے جو تناسخ یعنی روح کے ایک بدن سے دوسرے بدن میں جانے کے قائل ہیں وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں کو جو تکلیف پہنچتی ہے وہ ان کے گناہوں کا نتیجہ ہو اور ابھی تک چونکہ ان سے کوئی گناہ ہوا نہیں تو لازم آیا کہ اس زندگی سے پہلے کوئی اور زندگی ہو گی جس میں گناہ ہوئے ہوں گے۔ ان کا اس ایت سے اپنے باطل مذہب پر استدلال باطل ہے کیونکہ بچے اس کلام کے مخاطب ہی نہیں جیسا کہ عام طور پر تمام خطابات عقلمند اور بالغ حضرات کو ہی ہوتے ہیں ۔( خزائن العرفان الشوری تحت الایۃ: ۳۰ ص۸۹۵ ملخصا) نیز بالفرض اگر ان لوگوں کی بات کو ایک لمحے کے لئے تسلیم کرلیں تو ان سے سوال ہے کہ بچوں کو تکالیف تو یقینی طور پر اتی ہی ہیں خواہ وہ ان لوگوں کے عقیدے کے مطابق ساتواں جنم ہو یا پہلا تو سوال یہ ہے کہ بچوں کے پہلے جنم میں جو تکلیفیں اتی ہیں وہ کون سے گناہوں کی وجہ سے ہوتی ہیں کیونکہ اس سے پہلے تو کوئی جنم ان کے عقیدے کے مطابق بھی نہیں گزرا ہوتا۔