Surah Ash Shura Ayat 33 (42:33)
The Consultation · Juz 25 · Makki
اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ 33
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاگروہ چاہے تو ہوا کو روک دے تو کشتیاں سمندرکی پشت پرٹھہری رہ جائیں ،بیشک اس میں ضرور ہر بڑے صبرکرنے والے، شکر کرنے والے کیلئے نشانیاں ہیں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanوہ چاہے تو ہوا تھما دے کہ اس کی پیٹھ پر ٹھہری رہ جائیں بے شک اس میں ضرور نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر شاکر کو۔
Tafseer (Urdu)
{ان یشا یسكن الریح: اگروہ چاہے تو ہوا کو روک دے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگراللہ تعالی چاہے تو اس ہوا کو روک دے جوکشتیوں کو چلاتی ہے تو تمام کشتیاں سمندرکی پشت پرٹھہری رہ جائیں اور چل ہی نہ پائیں یا اگر اللہ تعالی چاہے تو مخالف سمت سے ہوا بھیج کر بعض کشتیوں کو اس میں سوار لوگوں کے گناہوں کے سبب غرق کردے اور بہت سے لوگوں کے گناہوں سے درگزرفرمادے کہ ان پر عذاب نہ کرے اور انہیں ڈوبنے سے محفوظ رکھے۔بیشک اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق کشتیوں کے چلنے اور رکنے میں ضرورہر بڑے صبرکرنے والے شکر کرنے والے کیلئے نشانیاں ہیں ۔ یہاں صابر شاکر سے مخلص مومن مراد ہے جو سختی و تکلیف میں صبر کرتا ہے اور راحت و عیش میں شکراور مقصد یہ ہے کہ مومن بندے پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالی کی معرفت کے دلائل سے کسی طرح غافل نہ ہو کیونکہ مومن بندہ یا تو سختی اور تکلیف میں مبتلاء ہو گا یا راحت و عیش میں ہو گالہذااسے چاہئے کہ اگر اس پر سختی اور تکلیف ائے تو وہ صبر کرے اور نعمتیں ملیں تو اللہ تعالی کا شکر ادا کرے۔( روح البیان الشوری تحت الایۃ: ۳۳ ۸ / ۳۲۴ تفسیرکبیر الشوری تحت الایۃ: ۳۳ ۹ / ۶۰۲ خازن الشوری تحت الایۃ: ۳۳ ۴ / ۹۸ مدارک الشوری تحت الایۃ: ۳۳ ص۱۰۹۰ ملتقطا) شکرکے 15 فضائل: یہاں ایت کی مناسبت سے شکر کے 15 فضائل ملاحظہ ہوں : (1)…شکر ادا کرتے ہوئے کھانے والے کا اجر صبر کرتے ہوئے روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔( مستدرک کتاب الاطعمۃ الطاعم الشاکر مثل الصائم الصابر ۵ / ۱۸۸ الحدیثـ: ۷۲۷۷) (2)…اللہ تعالی شکر کرنے والوں کو اس کا صلہ دے گا۔( ال عمران:۱۴۴) (3)…شکر کرنے سے بندہ عذاب سے محفوظ رہتا ہے۔( النساء:۱۴۷) (4)…شکر کرنے سے نعمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔( ابراہیم:۷) (5)…اللہ تعالی اپنی حمد و شکر کئے جانے کو پسند فرماتا ہے۔( معجم الکبیر الاسود بن شریع المجاشعی ۱ / ۲۸۳ الحدیث: ۸۲۵) (6)…شکر کرنے والا دل بندے کے ایمان پر مددگار ہے۔( ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ التوبۃ ۵ / ۶۵ الحدیث: ۳۱۰۵) (7)…شکر گزار دل دین و دنیا کے امور پر مددگار ہے۔( شعب الایمان الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۴ / ۱۰۴ الحدیث: ۴۴۳۰) (8)…عطا پر شکر کرنا اللہ تعالی کی رحمت میں داخل ہونے کا سبب ہے۔( شعب الایمان الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۴ / ۱۰۵ الحدیث: ۴۴۳۲) (9)…وہ خیر جس میں کوئی شر نہیں عافیت کے ساتھ شکر کرنا ہے۔( شعب الایمان الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۴ / ۱۰۶ روایت نمبر: ۴۴۳۶) (10)…اسانی میں شکر کرنے والا زاہد ہے۔( شعب الایمان الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۴ / ۱۰۶ روایت نمبر: ۴۴۳۸) (11)…شکر ایمان کا نصف حصہ ہے۔( شعب الایمان الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ ۴ / ۱۰۹ روایت نمبر: ۴۴۴۸) (12)…اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا دنیا کی تمام نعمتوں سے بہتر ہے۔( ابن عساکر محمد بن عبد اللہ بن محمد بن عبید اللہ بن ہمام۔۔۔ الخ ۵۴ / ۱۶) (13)…قیامت کے دن اللہ تعالی کے افضل ترین بندے وہ ہوں گے جو بہت شکر گزار ہوں گے۔( معجم الکبیر عبد الرحمن بن مورق العجلی عن مطرف ۱۸ / ۱۲۴ الحدیث: ۲۵۴) (14)…شکر ادا کرنے سے بندہ زوال نعمت سے بچ جاتا ہے۔( مسند الفردوس باب الحاء ۲ / ۱۵۵ الحدیث: ۲۷۸۳) (15)…جب اللہ تعالی کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو ان کی عمر دراز کر دیتا اور انہیں شکر کا الہام فرماتا ہے۔(مسند الفردوس باب الالف ۱ / ۲۴۶ الحدیث: ۹۵۳) اللہ تعالی ہمیں ہر حال میں اپنا شکر ادا کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔ {و یعلم الذین یجادلون فی ایتنا: اور ہماری ایتوں میں جھگڑنے والے جان جائیں ۔} یعنی اگر اللہ تعالی چاہے تو لوگوں کو سمندر میں غرق کردے اور قران پاک کو جھٹلانے والے جان جائیں کہ ان کیلئے اللہ تعالی کی گرفت اور ا س کے عذاب سے بھا گنے کی کوئی جگہ نہیں۔(جلالین الشوری تحت الایۃ: ۳۵ ص۴۰۴ خازن الشوری تحت الایۃ: ۳۵ ۴ / ۹۸ ملتقطا)