Surah Az Zukhruf Ayat 19 (43:19)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىٕكَةَ الَّذِیْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًاؕ-اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْؕ-سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ یُسْــٴَـلُوْنَ 19
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہوں نے فرشتوں کو عورتیں ٹھہرایا جو کہ رحمٰن کے بندے ہیں ۔کیا یہ کفار ان کے بناتے وقت موجودتھے؟اب ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے جواب طلب ہوگا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور انہوں نے فرشتوں کو کہ رحمٰن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے اب لکھ لی جائے گی اُن کی گواہی اور ان سے جواب طلب ہوگا۔
Tafseer (Urdu)
{و جعلوا الملىكة الذین هم عبد الرحمن اناثا: اور انہوں نے فرشتوں کو عورتیں ٹھہرایا جو کہ رحمن کے بندے ہیں ۔} ایت کے اس حصے اور اس سے اوپر والی ایات کا حاصل یہ ہے کہ بے دینوں نے فرشتوں کو اللہ تعالی کی بیٹیاں بتا کراس طرح کفر کا ارتکاب کیا کہ انہوں نے اللہ تعالی کی طرف اولاد کی نسبت کی اور اس چیز کواللہ تعالی کی طرف منسوب کیا جسے وہ خود بہت ہی حقیر سمجھتے ہیں اور اپنے لئے گوارانہیں کرتے۔ اس کے بعد کفار کا رد فرمایا کہ فرشتے اللہ تعالی کی بیٹیاں ہر گز نہیں بلکہ وہ اس کے بندے ہیں اور فرشتوں کا مذکر یا مونث ہونا ایسی چیز تو ہے نہیں جس پر کوئی عقلی دلیل قائم ہوسکے اوراس حوالے سے ان کے پاس کوئی خبر بھی نہیں ائی جسے وہ نقلی دلیل قرار دے سکیں توجو کفار ان کو مونث قرار دیتے ہیں ان کا ذریعہ علم کیا ہے کیا وہ فرشتوں کی پیدائش کے وقت موجود تھے اورانہوں نے مشاہدہ کرلیا ہے جب یہ بھی نہیں تو انہیں مونث کہنامحض جاہلانہ اورگمراہی کی بات ہے۔( مدارک الزخرف تحت الایۃ: ۱۵-۱۹ ص۱۰۹۷ ملخصا) {ستكتب شهادتهم:اب ان کی گواہی لکھ لی جائے گی۔} جب کفار نے فرشتوں کو اللہ تعالی کی بیٹیاں کہا توسرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے کفار سے دریافت فرمایا کہ تم فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کس طرح کہتے ہو اورتمہارا ذریعہ علم کیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا سے سنا ہے اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ وہ سچے تھے۔ اس گواہی کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ ان کفار کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اوراخرت میں ان سے اس کا جواب طلب ہوگا اور اس پر انہیں سزا دی جائے گی۔ (خازن الزخرف تحت الایۃ: ۱۹ ۴ / ۱۰۳)