Surah Az Zukhruf Ayat 18 (43:18)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
اَوَ مَنْ یُّنَشَّؤُا فِی الْحِلْیَةِ وَ هُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِیْنٍ 18
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور کیا وہ جس کی زیور میں پرورش کی جاتی ہے اور وہ بحث میں صاف بات کرنے والی بھی نہیں ہوتی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور کیا وہ جو گہنے میں پروان چڑھے اور بحث میں صاف بات نہ کرے۔
Tafseer (Urdu)
{او من ینشؤا فی الحلیة: اور کیا وہ جس کی زیور میں پرورش کی جاتی ہے۔} اللہ تعالی کی شان یہ ہے کہ وہ اولاد سے پاک ہے اورجب کفار نے اللہ تعالی کے لئے بیٹیاں بتا کر اس کی اولاد ثابت کی تواللہ تعالی نے ان کی عقل اور فہم کے مطابق کلام فرماتے ہوئے ان کے اس نظریے کو رد فرمایا اوراس ایت میں عورت کے اندر پائے جانے والے دو نقص بیان فرما کر کفارکی کم عقلی اور جہالت کو واضح فرمایا کہ جس میں دیگر خوبیوں کے ساتھ ساتھ ایسے نقص بھی ہیں تو وہ اللہ تعالی کی اولاد کس طرح ہو سکتی ہے اور اسے اللہ تعالی کی اولاد قرار دینا کیسی جہالت ہے۔اس ایت میں عورت کے جو دو نقص بیان کئے گئے وہ یہ ہیں ۔ (1)…زیور میں پرورش پانا۔اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ عورت چاہے کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو لیکن اس میں بچپن سے لے کر جوانی بلکہ بڑھاپے تک زیورات سے اراستہ ہونے کی خواہش اور طلب ضرور پائی جاتی ہے اور اس کے بغیر وہ اپنے حسن کے متعلق احساس کمتری محسوس کرتی رہتی ہے اور یہ بات نزاکت کی علامت ہے جو ایک اعتبار سے تو خوبی ہے لیکن ایک اعتبار سے نقص بھی ہے۔ (2)…بحث کے دوران اپنا موقف صاف بیان نہ کرسکنا۔اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ جس طرح بہت سے مرد ذہین ہوتے ہیں اور بحث کے دوران اپنا موقف انتہائی اچھے انداز میں پیش کر سکتے ہیں جبکہ بعض مردوں میں ذہانت کی کمی اور اپنا موقف اچھے انداز میں پیش کرنے کی خوبی نہیں ہوتی اسی طرح بعض عورتیں بھی انتہائی ذہین ہوتی ہیں اور بحث کے دوران اپنا موقف بڑے اچھے انداز میں بیان کر سکتی ہیں البتہ عورتوں کی کثیر تعداد ایسی ہے جو اس خوبی سے اراستہ نہیں بلکہ عموما جذبات سے جلد مغلوب ہو کر یا سختی کے مقامات پراپنی بات صحیح طریقے سے نہیں کرپاتی لہذا مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو بحث کے دوران اپنا موقف صاف اور واضح طور پر بیان نہ کر پانا بھی عورت کا ایک نقص ہے۔