Surah Az Zukhruf Ayat 17 (43:17)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ 17
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ان میں کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جائے جس کے ساتھ اس نے رحمٰن کو متصف کیا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غم و غصے میں بھرا رہتا ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب اُن میں کسی کو خوشخبری دی جائے اُس چیز کی جس کا وصف رحمٰن کے لیے بتاچکا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے۔
Tafseer (Urdu)
{ و اذا بشر احدهم بما ضرب للرحمن مثلا: اور جب ان میں کسی کو اس چیز کی خوشخبری سنائی جائے جس کے ساتھ اس نے رحمن کو متصف کیا ہے۔} یعنی کفار جو کہ اولاد سے پاک رب تعالی کے لئے بیٹیا ں ثابت کر رہے ہیں بیٹیوں سے نفرت میں ان کا اپنا حال یہ ہے کہ جب ان میں سے کسی کو خوشخبری سنائی جائے کہ تیرے گھرمیں بیٹی پیدا ہوئی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غم و غصے میں بھرا رہتا ہے۔جب یہ اپنے لئے بیٹیوں کو اس قدر ناگوار سمجھتے ہیں تو اس خدائے پاک کے لئے بیٹیاں بتاتے ہوئے انہیں شرم نہیں اتی۔(خازن الزخرف تحت الایۃ: ۱۷ ۴ / ۱۰۳ ملتقطا) بیٹیوں سے نفرت کرنا اور ان کی پیدائش سے گھبرانا کفار کا طریقہ ہے: کفار کا اپنی بیٹیوں سے نفرت کا حال بیان کرتے ہوئے ایک اورمقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: ’’و اذا بشر احدهم بالانثى ظل وجهه مسودا و هو كظیم(۵۸) یتوارى من القوم من سوء ما بشر به-ایمسكه على هون ام یدسه فی التراب-الا سآء ما یحكمون‘‘(سورۃ النحل:۵۸۵۹) ترجمہ کنزالعرفان: اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصے سے بھراہوتا ہے۔ اس بشارت کی برائی کے سبب لوگوں سے چھپا پھرتا ہے ۔ کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبادے گا خبردار! یہ کتنا برا فیصلہ کررہے ہیں ۔ اس ایت سے معلوم ہوا کہ لڑکیوں کی پیدائش سے گھبرانا کافروں کا طریقہ ہے لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ بیٹی پیدا ہونے پر گھبرانے کی بجائے اللہ تعالی کا شکر ادا کریں اور جس عورت کے ہاں پہلی اولاد بیٹی ہو اسے منحوس نہ سمجھیں کیونکہ ایسی عورت برکت والی ہوتی ہےجیساکہ حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’عورت کی برکت یہ ہے کہ ا س سے پہلی بار بیٹی پیدا ہو۔( ابن عساکر ذکر من اسمہ: العلاء ۵۴۷۳-العلاء بن کثیر ابو سعید ۴۷ / ۲۲۵)