Surah Az Zukhruf Ayat 26 (43:26)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖۤ اِنَّنِیْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ 26
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا: میں تمہارے معبودو ں سے بیزار ہوں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا میں بیزار ہوں تمہارے معبودو ں سے۔
Tafseer (Urdu)
{و اذ قال ابرهیم: اور جب ابراہیم نے فرمایا۔} اس سے پہلی ایات میں کفار کے بارے میں بیان ہو اکہ ان کے پاس اپنے شرک کے جواز کی دلیل صرف اپنے اباء و اجداد کی پیروی ہے اوراس ایت سے اہل عرب کے جد اعلی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے حالات بیان کئے گئے کہ انہوں نے اللہ تعالی کے علاوہ سب جھوٹے معبودوں کی عبادت کرنے سے انکار کر دیا اور وہ اللہ تعالی کی وحدانیت اور صرف اسی کی عبادت پر قائم رہے تاکہ اہل عرب اپنے جد اعلی کے دین کی طرف لوٹ ائیں کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ان کے اباء میں سب سے زیادہ معزز ہیں اور وہ سب ان سے محبت کرتے ہیں تو جس طرح انہوں نے بتوں کی عبادت کرنے میں اپنے اباء کی پیروی نہیں کی تو اسی طرح انہیں بھی چاہئے کہ وہ (بت پرستی کرنے میں ) اپنے قریبی اباء و اجداد کی پیروی چھوڑ دینے میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی پیروی کریں اور دین حق کی اتباع کرنے کی طرف لوٹ ائیں۔ اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جو کفار اپنے اباء و اجداد کی پیروی پر اڑے ہوئے ہیں انہیں وہ وقت یاد دلائیں جب ان کے جد اعلیحضرت ابراہیمعلیہ الصلوۃ والسلام نے اگ سے نکلنے کے بعد بت پرستی سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عرفی باپ یعنی چچا ازر اور اپنی قوم سے فرمایا: میں تمہارے معبودو ں سے بیزار ہوں اور میں صرف اس کی عبادت کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا تو ضرور وہ جلد مجھے میری ہجرت گاہ کی طرف راستہ دکھائے گا جہاں جا کر میں اپنے رب عزوجل کی عبادت کرسکوں ۔( تفسیرکبیر الزخرف تحت الایۃ: ۲۶-۲۷ ۹ / ۶۲۸-۶۲۹ البحر المحیط الزخرف تحت الایۃ: ۲۶-۲۷ ۸ / ۱۳ ابو سعود الزخرف تحت الایۃ: ۲۶-۲۷ ۵ / ۵۴۰-۵۴۱ ملتقطا)