Surah Az Zukhruf Ayat 29 (43:29)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى جَآءَهُمُ الْحَقُّ وَ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبلکہ میں نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دئیے یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف بتانے والا رسول تشریف لایا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبلکہ میں نے اُنہیں اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دیئے یہاں تک کہ اُن کے پاس حق اور صاف بتانے والا رسول تشریف لایا۔
Tafseer (Urdu)
{بل متعت هؤلآء و ابآءهم: بلکہ میں نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دئیے۔} اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی نسل کے لوگوں سے جو امید کی تھی وہ پوری نہ ہوئی بلکہ میں نے ابراہیم کی نسل میں سے ان کفار مکہ کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دئیے کہ انہیں لمبی عمریں عطا فرمائیں اور ان کے کفر کے باعث ان پر عذاب نازل کرنے میں جلدی نہ کی یہاں تک کہ ان کے پاس قران پاک اور صاف بتانے والے رسول انبیاء کے سردار صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم روشن ترین آیات و معجزات کے ساتھ رونق افروز ہوئے اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ان کے سامنے شرعی احکام واضح طور پر بیان فرمائے۔ ہمارے اس انعام کا حق یہ تھا کہ وہ لوگ اس رسول مکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی اطاعت کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ جب ان کے پاس قران آیاتو اس کے بارے کہنے لگے کہ یہ توجادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں جبکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے بارے میں کہنے لگے کہ ان پر قران کیو ں اترا ان دو شہروں مکہ اور طائف میں رہنے والوں میں سے کسی بڑے آدمی جومال و دولت اور غلاموں کی کثرت رکھتاہواس پریہ قرآن کیوں نہ اتارا گیااس بڑے ادمی سے مراد مکہ مکرمہ میں ولید بن مغیرہ اور طائف میں عروہ بن مسعود ثقفی ہے۔( روح البیانالزخرفتحت الایۃ:۲۹-۳۱ ۸ / ۳۶۴-۳۶۵ خازن الزخرف تحت الایۃ: ۲۹-۳۱ ۴ / ۱۰۴ ملتقطا)