Surah Az Zukhruf Ayat 28 (43:28)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاورابراہیم نے اس کلمہ کو اپنی نسل میں باقی رہنے والا کلمہ بنادیا تاکہ وہ رجوع کریں۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور اُسے اپنی نسل میں باقی کلام رکھا کہ کہیں وہ باز آئیں ۔
Tafseer (Urdu)
{و جعلها كلمة باقیة فی عقبه: اورابراہیم نے اس کو اپنی نسل میں باقی رہنے والا کلمہ بنادیا۔} یعنی حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے توحید کا جو کلمہ فرمایا تھا کہ میں تمہارے معبودوں سے بیزار ہوں سوائے اس کے جس نے مجھے پیدا کیااپ نے اسے اپنی نسل میں باقی رہنے والا کلمہ بنا دیا چنانچہ اپ کی اولاد میں توحید کا اقرار کرنے والے اور توحید کی دعوت دینے والے ہمیشہ رہیں گے اپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے باقی رہنے والا کلمہ اس لئے بنایا تاکہ ان کی نسل میں سے جو شرک کرے وہ توحید کی دعوت دینے والے کی بات سن کر شرک سے باز ا جائے اور اس توحید کے کلمہ کی طرف لوٹ آئے اور دین حق قبول کر لے۔( مدارک الزخرف تحت الایۃ: ۲۸ ص۱۰۹۹) حضرت صدرالافاضل مولانا نعیم الدین مراد ابادی رحمۃاللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ’’ یہاں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا ذکر فرمانے میں تنبیہ ہے کہ اے اہل مکہ ! اگر تمہیں اپنے باپ دادا کا اتباع(یعنی پیروی) کرنا ہی ہے تو تمہارے آباء میں جو سب سے بہتر ہیں ( یعنی) حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام ان کااتباع کرو اور شرک چھوڑ دو اور یہ بھی دیکھو کہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو راہ راست پر نہیں پایا تو ان سے بیزاری کا اعلان فرمادیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو باپ دادا راہ راست پر ہوں دین حق رکھتے ہوں ان کا اتباع کیا جائے اور جو باطل پر ہوں گمراہی میں ہوں ان کے طریقہ سے بیزاری کا اعلان کیا جائے۔( خزائن العرفان الزخرف تحت الایۃ: ۲۸ ص۹۰۳)