Surah Az Zukhruf Ayat 44 (43:44)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَۚ-وَ سَوْفَ تُسْــٴَـلُوْنَ 44
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور(اے حبیب!) بیشک یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کیلئے شرف وبزرگی ہے اور (اے لوگو!) عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بیشک وہ شرف ہے تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا۔
Tafseer (Urdu)
{و انه لذكر لك و لقومك: اور بیشک یہ قران تمہارے اور تمہاری قوم کیلئے شرف و بزرگی ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم یہ قران اپ کے لئے بطور خاص عظیم شرف کا سبب ہے کہ اللہ تعالی نے اپ کو نبوت اور حکمت عطا فرمائی اور عمومی طور پر اپ کی امت کے لئے بھی عظمت کا سبب ہے کہ انہیں اس سے ہدایت فرمائی اوراے لوگو! عنقریب قیامت کے دن تم سے پوچھا جائے گا کہ تم نے قرآن کا کیا حق ادا کیا اس کی کیا تعظیم کی اور اس نعمت کا کیا شکر بجالائے۔( مدارک الزخرف تحت الایۃ: ۴۴ ص۱۱۰۱ ملتقطا) مسلمانوں کی عظمت و ناموری کا ذریعہ اور مسلمانوں کا حال: اس ایت سے معلوم ہوا کہ قران مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے جو اس امت کی عظمتناموری اور چرچے کا ذریعہ ہےاسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’لقد انزلنا الیكم كتبا فیه ذكركم-افلا تعقلون‘‘(انبیاء:۱۰) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارا چرچا ہے۔ تو کیا تمہیں عقل نہیں اس کے ذریعے عظمت اور ناموری اسی صورت حاصل ہو سکتی ہے جب کہ اس کے احکام اور ا س کی تعلیمات پر عمل کیا جائے اگر تاریخ پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت روشن دن سے بھی زیادہ واضح نظر ائے گی کہ دین اسلام کے ابتدائی سالوں میں مسلمانوں کو دنیا میں جو عظمت ملی دنیا جہاں میں ان کا سکہ چلا اور دبدبہ بیٹھا اور ہر طرف ان کی نیک نامی کا جو چرچا ہوا اس کا بنیادی سبب قران مجید سے والہانہ وابستگیاس کے احکامات اور تعلیمات کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھنا اور مشکل ترین حالات میں بھی ان پر عمل پیرا رہنا تھا اور فی زمانہ مسلمان دنیا بھر میں جس ذلت و رسوائی کا شکار نظر ا رہے ہیں اس کی بہت بڑی وجہ قران مجید سے ان کی وابستگی ختم ہو جانا اس کے احکامات کی پرواہ نہ کرنا اور ان پر عمل چھوڑ دینا ہے بلکہ قران کریم سے ان کی دوری کا یہ حال ہے کہ مسلمانوں کی ایک تعدادکو قران مجید کے دئیے ہوئے احکامات اور اس کی روشن تعلیمات کی خبر تک نہیں ہے حتی کہ صرف قران مجید کا عربی متن پڑھنے کا کہا جائے تو وہ تک انہیں صحیح پڑھنا نہیں اتاگھروں میں ہفتوں اور مہینوں قران مجید سنہری کپڑوں میں ملبوس پڑا رہتا ہے اور موقع ملنے پر اس سے گرد وغیرہ کی تہ صاف کر کے دوبارہ اسی مقام پر رکھ دیا جاتا ہے ۔اے کاش! درس قراں ہم نے نہ بھلایا ہوتا یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا دیکھے ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولت شکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت سے گلہ ہے فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہباں بیڑا یہ تباہی کے قریب ان لگا ہے اس ایت مبارکہ کو سامنے رکھتے ہوئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی حالت پر غور کر لے کہ ا س نے قران مجید کا کتنا حق ادا کیاقران کی کیا تعظیم کی اس نعمت کا کتنا شکر بجا لایا اور اس کے احکامات اور تعلیمات پر کس قدر عمل کیا۔