Surah Az Zukhruf Ayat 49 (43:49)
The Ornaments of Gold · Juz 25 · Makki
وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَۚ-اِنَّنَا لَمُهْتَدُوْنَ 49
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور انہوں نے کہا: اے جادوکے علم والے ! ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، اُس عہد کے سبب جو اس نے تم سے کیا ہے ۔بیشک ہم ہدایت پر آجائیں گے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور بولے کہ اے جادوگر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے بیشک ہم ہدایت پر آئیں گے۔
Tafseer (Urdu)
{و قالوا: اور انہوں نے کہا۔} اس ایت اور اس کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب فرعون اور ا س کی قوم نے عذاب دیکھا تو انہوں نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام سے کہا ’’اے جادو کے علم والے!‘‘ یہ کلمہ ان کے عرف اور محاورہ میں بہت تعظیم وتکریم کا تھا وہ لوگ عالم ماہر حاذق اور کامل کو جادوگر کہا کرتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ ان کی نظر میں جادو کی بہت عظمت تھی اور وہ اسے قابل تعریف و صف سمجھتے تھے اس لئے انہوں نے التجا کے وقت حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اس کلمہ سے ندا کی اورکہا: تم سے جو تمہارے رب عزوجل نے عہد کیا ہے کہ تمہاری دعا مقبول ہے اور ایمان لانے والوں اور ہدایت قبول کرنے والوں پر سے اللہ تعالی عذاب اٹھا لے گا اس عہد کے سبب ہمارے لیے اپنے رب عزوجل سے دعا کروکہ ہم سے یہ عذاب دور کر دے بیشک ہم ہدایت پر آجائیں گے اور ایمان قبول کر لیں گے۔ چنانچہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے دعا کی تو ان پر سے عذاب اٹھالیا گیا جب اللہ تعالی نے ان سے وہ مصیبت ٹال دی تواسی وقت انہوں نے اپنا عہد توڑدیا اور ایمان قبول کرنے کی بجائے اپنے کفر پر ہی اڑے رہے۔( خازن الزخرف تحت الایۃ: ۴۹ ۴ / ۱۰۷ مدارک الزخرف تحت الایۃ: ۴۹ ص۱۱۰۲ ملتقطا) نوٹ:یہ واقعہ سورہ اعراف کی ایت نمبر134اور135 میں گزر چکا ہے۔