Surah Ad Dukhan Ayat 13 (44:13)
The Smoke · Juz 25 · Makki
اَنّٰى لَهُمُ الذِّكْرٰى وَ قَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مُّبِیْنٌ 13
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariان کیلئے نصیحت ماننا کہاں ہوگا؟ حالانکہ ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا رسول تشریف لاچکا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکہاں سے ہو انہیں نصیحت ماننا حالانکہ ان کے پاس صاف بیان فرمانے والا رسول تشریف لاچکا۔
Tafseer (Urdu)
{انى لهم الذكرى: ان کیلئے نصیحت ماننا کہاں ہوگا} اس ایت اور ا س کے بعد والی ایت کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ان سے عذاب دور کر دیا جائے تو بھی یہ کہاں ایمان لائیں گے حالانکہ یہ اس سے بڑی بڑی وہ علامات دیکھ چکے ہیں جن سے نصیحت حاصل کر کے ایمان قبول کر سکتے تھے اور وہ علامات یہ ہیں کہ ان کے پاس ایک عظیم الشان رسول تشریف لایا اوراس نے ان کے سامنے روشن ایات اور ایسے مضبوط معجزات کے ذریعے حق کے راستوں کو واضح کیا کہ انہیں دیکھ کر پہاڑ بھی اپنی جگہ سے سرک جائیں لیکن میرے حبیب صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی طرف سے پیش کی گئی روشن ایات اور مضبوط معجزات دیکھ کر بھی یہ لوگ ان سے منہ پھیر گئے او ر صرف منہ پھیرنے کو ہی کافی نہیں سمجھا بلکہ ان کے متعلق یہ افتراء بھی کرنے لگے کہ یہ تو کسی ادمی کی طرف سے سکھایا ہوا ہے اور دیوانہ ہے جسے وحی کی غشی طاری ہونے کے وقت جنات یہ کلمات تلقین کرجاتے ہیں ۔ (ابوسعودالدخانتحت الایۃ:۱۳-۱۴ ۵ / ۵۵۶ تفسیرکبیر الدخان تحت الایۃ: ۱۳-۱۴ ۹ / ۶۵۷-۶۵۸ ملتقطا) قران پاک کی حقانیت دیکھ کر کفار کا حال: قران مجیدکی حقانیت دیکھ کر کفار بہت زیادہ بوکھلا گئے تھے اسی وجہ سے وہ قران کریم سے لوگوں کو بہکانے کیلئے کبھی کچھ کہتے اور کبھی کچھ جیسے کبھی وہ یہ دعوی کرتے کہ تاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو کسی ادمی نے سکھایا ہے جیسا کہ سورہ نحل میں ارشاد باری تعالی ہے: ’’و لقد نعلم انهم یقولون انما یعلمه بشر‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: اور بیشک ہم جانتے ہیں کہ وہ کافر کہتے ہیں :اس نبی کو ایک ادمی سکھاتا ہے۔ پھر ان کفار کا رد کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشادفرمایا: ’’لسان الذی یلحدون الیه اعجمی و هذا لسان عربی مبین‘‘(نحل:۱۰۳) ترجمہ کنزالعرفان: جس ادمی کی طرف یہ منسوب کرتے ہیں اس کی زبان عجمی ہے اور یہ قران روشن عربی زبان میں ہے۔ کبھی یہ کہتے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے اسے اپنی طرف سے بنا لیا ہے جیسا کہ سورہ فرقان میں ارشاد باری تعالی ہے: ’’ و قال الذین كفروا ان هذا الا افك ﰳافترىه و اعانه علیه قوم اخرون‘‘ ترجمہ کنزالعرفان: اور کافروں نے کہا: یہ قران تو صرف ایک بڑا جھوٹ ہے جو انہوں نے خود بنالیا ہے اور اس پردوسرے لوگوں نے (بھی) ان کی مدد کی ہے۔ اللہ تعالی نے ان کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’فقد جآءو ظلما و زورا‘‘(فرقان:۴) ترجمہ کنزالعرفان: توبیشک وہ (کافر) ظلم اور جھوٹ پرآگئے ہیں ۔ اور کبھی یہ دعوی کرتے کہ قران پہلے لوگوں کی کہانیوں پر مشتمل ایک کتاب ہے۔جیسا کہ سورہ فرقان ہی میں ارشاد باری تعالی ہے: ’’و قالوا اساطیر الاولین اكتتبها فهی تملى علیه بكرة و اصیلا‘‘(فرقان:۵) ترجمہ کنزالعرفان: اورکافروں نے کہا: (یہ قران)پہلےلوگوں کی کہانیاں ہیں جو اس(نبی) نے کسی سے لکھوا لی ہیں تویہی ان پر صبح و شام پڑھی جاتی ہیں ۔