Surah Ad Dukhan Ayat 24 (44:24)
The Smoke · Juz 25 · Makki
وَ اتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًاؕ-اِنَّهُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ 24
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariاور دریا کو جگہ جگہ سے کھلا ہواچھوڑ دو بیشک وہ لشکر غرق کر دیا جائے گا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanاور دریا کو یونہی جگہ جگہ سے کھلاچھوڑ دے بیشک وہ لشکر ڈبو یا جائے گا۔
Tafseer (Urdu)
{و اترك البحر رهوا: اور دریا کو جگہ جگہ سے کھلا ہواچھوڑ دو۔} اس ایت اور ا س کے بعد والی تین ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے پیچھے فرعون اور اس کا لشکر آرہا تھااس پر آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے چاہا کہ پھرعصا مار کر دریا کو ملادیں تاکہ فرعون اس میں سے گزر نہ سکے تو آپ کو حکم ہوا: دریا کو جگہ جگہ سے گزرنے کیلئے کھلا ہواچھوڑ دو تاکہ فرعونی ان راستوں سے دریا میں داخل ہوجائیں بیشک وہ لشکر غرق کر دیا جائے گا۔یہ حکم سن کرحضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو اطمینان ہوگیا اور جب فرعون اور اس کے لشکر دریامیں داخل ہوگئے تو اللہ تعالی نے دریا کے پانی کو ملا دیا جس سے وہ سب غرق ہوگئے اور وہ کتنے باغ چشمے کھیتاراستہ و پیراستہ عمدہ مکانات اور وہ نعمتیں جن میں وہ عیش کرنے والے تھے چھوڑ گئے الغرض ان کا تمام مال و متاع اور سامان یہیں رہ گیا۔(مدارک الدخان تحت الایۃ: ۲۴-۲۷ ص۱۱۱۲ جلالین الدخان تحت الایۃ: ۲۴-۲۷ ص۴۱۱ روح البیان الدخان تحت الایۃ: ۲۴-۲۷ ۸ / ۴۱۱-۴۱۲ ملتقطا) معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام کو فرعونیوں کی موت کے وقت جگہ اور کیفیت سے مطلع فرما دیا تھا اور یہ سب چیزیں ان پانچ علوم میں سے ہیں جن کا علم اللہ تعالی کو ہےمعلوم ہوا کہ اللہ تعالی اپنے مقبول بندوں کو علوم خمسہ سے بھی نوازتا ہے۔