Surah Ad Dukhan Ayat 28 (44:28)
The Smoke · Juz 25 · Makki
كَذٰلِكَ- وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ 28
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariہم نے یونہی کیا اور ان چیزوں کا دوسری قوم کو وارث بنادیا۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanہم نے یونہی کیا اور ان کا وارث دوسری قوم کو کردیا۔
Tafseer (Urdu)
{كذلك: ہم نے یونہی کیا۔} یعنی ہم نے فرعون اور ا س کی قوم کے ساتھ اسی طرح کیا کہ ان کا تمام مال و متاع سلب کر لیا اور ان چیزوں کا دوسری قوم یعنی بنی اسرائیل کو وارث بنا دیا جو ان کے ہم مذہب تھے نہ رشتہ دار اور نہ دوست تھے۔( روح البیان الدخان تحت الایۃ: ۲۸ ۸ / ۴۱۲ ملخصا) ایت ’’ كذلك- و اورثنها‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں (1)… کفارکی بستیوں اور ان کے مکانات میں رہنا منع نہیں ہاں جہاں عذاب الہی ایا ہو وہاں رہنا منع ہے اور چونکہ فرعون کی قوم پر مصر میں عذاب نہ ایا بلکہ انہیں وہاں سے نکال کر دریا میں غرق کیا گیا لہذا مصر میں رہنا درست ہوا ۔ (2)… فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت کے بعد مصر میں خود بنی اسرائیل اباد ہوئے تھے۔اس کی تائید قران پاک کی ان ایات سے بھی ہوتی ہےچنانچہ حضرت موسی علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی قوم سے فرمایا: ’’ عسى ربكم ان یهلك عدوكم و یستخلفكم فی الارض فینظر كیف تعملون‘‘(اعراف:۱۲۹) ترجمہ کنزالعرفان: عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمنوں کو ہلاک کردے گا اور تمہیں زمین میں جانشین بنا دے گاپھروہ دیکھے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ اور اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’و اورثنا القوم الذین كانوا یستضعفون مشارق الارض و مغاربها التی بركنا فیها-و تمت كلمت ربك الحسنى على بنی اسرآءیل ﳔ بما صبروا-و دمرنا ما كان یصنع فرعون و قومه و ما كانوا یعرشون‘‘(اعراف:۱۳۷) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم نے اس قوم کو جسے دبایا گیا تھا اس زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنادیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی اور بنی اسرائیل پر ان کے صبر کے بدلے میں تیرے رب کا اچھا وعدہ پورا ہوگیااور ہم نے وہ سب تعمیرات برباد کردیں جو فرعون اور اس کی قوم بناتی تھی اور وہ عمارتیں جنہیں وہ بلند کرتے تھے۔