Surah Ad Dukhan Ayat 29 (44:29)
The Smoke · Juz 25 · Makki
فَمَا بَكَتْ عَلَیْهِمُ السَّمَآءُ وَ الْاَرْضُ وَ مَا كَانُوْا مُنْظَرِیْنَ 29
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں مہلت نہ دی گئی۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے اور انہیں مہلت نہ دی گئی۔
Tafseer (Urdu)
{فما بكت علیهم السمآء و الارض: تو ان پر آسمان اور زمین نہ روئے۔ } ارشاد فرمایا کہ فرعون اور ا س کی قوم پر آسمان اور زمین نہ روئے کیونکہ وہ ایماندار نہ تھے اور انہیں عذاب میں گرفتار کرنے کے بعدتوبہ وغیرہ کے لئے مہلت نہ دی گئی۔(مدارک الدخان تحت الایۃ: ۲۹ ص۱۱۱۲ خازن الدخان تحت الایۃ: ۲۹ ۴ / ۱۱۴ ملتقطا) مومن کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں : یاد رہے کہ جب کسی مومن کا انتقال ہوتا ہے تو اس پر آسمان و زمین روتے ہیں جیسا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ہر مومن کے لئے دو دروازے ہیں ایک سے اعمال اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور دوسرے سے اس کا رزق اترتا ہے۔جب وہ مرتا ہے تو دونوں ا س پر روتے ہیں۔اور اللہ تعالی کے ا س فرمان’’فما بكت علیهم السمآء و الارض و ما كانوا منظرین‘‘میں یہی مذکور ہے۔‘‘ (ترمذی کتاب التفسیر باب ومن سورۃ الدخان ۵ / ۱۷۱ الحدیث: ۳۲۶۶) اورامام مجاہد رحمۃاللہ تعالی علیہ سے کہا گیا کہ کیا مومن کی موت پر آسمان و زمین روتے ہیں اپ رحمۃاللہ تعالی علیہ نے فرمایا :زمین اس بندے پر کیوں نہ روئے جو زمین کو اپنے رکوع و سجود سے آباد رکھتا تھا اور آسمان اس بندے پر کیوں نہ روئے جس کی تسبیح و تکبیر آسمان میں پہنچتی تھی۔ (خازن الدخان تحت الایۃ: ۲۹ ۴ / ۱۱۴) بعض مفسرین کے نزدیک زمین و اسمان خود نہیں روتے بلکہ یہاں ان کے رونے سے مراد اسمان اور زمین والوں کا رونا ہے جیسا کہ حضرت حسن رحمۃاللہ تعالی علیہ کا قول ہے کہ(زمین و اسمان کے رونے سے مراد یہ ہے کہ ) آسمان والے اور زمین والے روتے ہیں ۔(مدارک الدخان تحت الایۃ: ۲۹ ص۱۱۱۲)