Surah Ad Dukhan Ayat 34 (44:34)
The Smoke · Juz 25 · Makki
اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ لَیَقُوْلُوْنَ 34
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک یہ (کفارِ مکہ)ضرورکہتے ہیں ۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک یہ کہتے ہیں ۔
Tafseer (Urdu)
{ان هؤلآء لیقولون: بیشک یہ ضرورکہتے ہیں ۔} یہاں سے دوبارہ کفار مکہ کے بارے میں کلام شروع ہو رہا ہے چنانچہ اس ایت اور اس کے بعد والی دو ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ کفار مکہ ضرور کہتے ہیں کہ اس زندگانی کے بعد ایک موت کے علاوہ ہمارے لئے اور کوئی حال اور زندگی باقی نہیں ۔اس سے ان کا مقصود موت کے بعد زندہ کئے جانے کا انکار کرنا تھا جس کو اگلے جملے میں واضح کردیا کہ ہم موت کے بعددوبارہ کبھی زندہ کر کے اٹھائے نہیں جائیں گےاگر تم اس بات میں سچے ہو کہ ہم مرنے کے بعد زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے تو ہمارے باپ دادا کودوباہ زندہ کرکے لے آؤ ۔ کفار مکہ نے یہ سوال کیا تھا کہ اگر موت کے بعد کسی کا زندہ ہونا ممکن ہو تو قصی بن کلاب کو زندہ کردو اور یہ ان کی جاہلانہ بات تھی کیونکہ جس کام کے لئے وقت معین ہو اس کا اس وقت سے پہلے وجود میں نہ آنا اس کے ناممکن ہونے کی دلیل نہیں ہوتا اور نہ اس کا انکار صحیح ہوتا ہے جیسے اگر کوئی شخص کسی نئے اگے ہوئے درخت یا پودے کو کہے کہ اس میں سے اب پھل نکالو ورنہ ہم نہیں مانیں گے کہ اس درخت سے پھل نکل سکتا ہے تو اس کو جاہل قرار دیا جائے گا اور اس کا انکار محض حماقت یا جھگڑا ہوگا۔(تفسیرکبیرالدخان تحت الایۃ:۳۴-۳۶۹ / ۶۶۲ روح البیانالدخان تحت الایۃ:۳۴-۳۶ ۸ / ۴۱۶-۴۱۷ ملتقطا)