Surah Ad Dukhan Ayat 37 (44:37)
The Smoke · Juz 25 · Makki
اَهُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍۙ-وَّ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-اَهْلَكْنٰهُمْ٘-اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ 37
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariکیا وہ بہتر ہیں یا تبع (نامی بادشاہ)کی قوم اور ان سے پہلے والے لوگ؟ ہم نے انہیں ہلاک کردیا بیشک وہ مجرم لوگ تھے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanکیا وہ بہتر ہیں یا تُبَّع کی قوم اور جو ان سے پہلے تھے ہم نے انہیں ہلاک کردیا بیشک وہ مجرم لوگ تھے۔
Tafseer (Urdu)
{اهم خیر ام قوم تبع: کیا وہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم۔} اس ایت میں کفار قریش کا رد کیا گیا ہے کہ کیا طاقت و قوت اور شان و شوکت میں کفار مکہ بہتر ہیں یا تبع نامی بادشاہ کی قوم اور ان سے پہلے والے لوگ جیسے عاد اور ثمود وغیرہ جو کہ کافر امتوں میں سے تھے ان لوگوں کا انجام یہ ہوا کہ ہم نے انہیں ان کے کفر کے باعث ہلاک کردیا بیشک وہ کافر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کے منکر لوگ تھے جس کی وجہ سے عذاب کے حقدار ٹھہرے۔جب یہ کفار مکہ سے زیادہ طاقت و قوت رکھنے کے باوجود کفر کی وجہ سے ہلاک ہو گئے تو کفار مکہ جو کہ کفر میں ان کے شریک ہیں انہیں ہلاک کرنا کونسا دشوار کام ہے حالانکہ یہ تو ان کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہیں ۔ یاد رہے کہ اس ایت میں جس تبع کا ذکر ہے یہ تبع حمیری تھےیہ خود مومن اور یمن کے بادشاہ تھے لیکن ان کی قوم کافر تھی جو کہ انتہائی طاقت و قوت اور شان و شوکت کی مالک تھی اور ان کی تعداد بھی بہت کثیر تھی۔(روح البیان الدخان تحت الایۃ: ۳۷ ۸ / ۴۱۸ خازن الدخان تحت الایۃ: ۳۷ ۴ / ۱۱۵ مدارک الدخان تحت الایۃ: ۳۷ ص۱۱۱۳ ملتقطا) حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہےتاجدار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ تبع کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ وہ اسلام قبول کر چکے تھے۔‘‘ (معجم الکبیرسہل بن سعد الساعدی ابو زرعۃ عمرو بن جابر الحضرمی عن سہل بن سعد۶ / ۲۰۳الحدیث:۶۰۳۱) اسی تبع نے مدینہ منورہ بسایا اس تبع نے حضورپرنور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کو غائبانہ خط لکھ کر لوگوں کو سپرد کیا تھا کہ جب حضوراکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم جلوہ گر ہوں تو میرا یہ خط پیش کر دیا جائے چنانچہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان میں جب حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم تشریف فرما ہو ئے تو حضرت ابویعلی رضی اللہ تعالی عنہ نے وہ خط پیش کیا۔