Surah Ad Dukhan Ayat 43 (44:43)
The Smoke · Juz 25 · Makki
اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ 43
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariبیشک زقوم کادرخت۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanبیشک تھوہڑ کا پیڑ۔
Tafseer (Urdu)
{ان شجرت الزقوم: بیشک زقوم کادرخت۔} اس ایت اور اس کے بعد والی تین ایات کا خلاصہ یہ ہے کہ بیشک جہنم کا کانٹے دار اور انتہائی کڑوازقوم نام کادرخت بڑے گناہگار یعنی کافر کی خوراک ہے اور جہنمی زقوم کی کیفیت یہ ہے کہ گلے ہوئے تانبے کی طرح کفار کے پیٹوں میں ایسے جوش مارتاہوگا جیسے کھولتا ہواپانی جوش مارتا ہے۔( ابو سعود الدخان تحت الایۃ: ۴۳-۴۶ ۵ / ۵۶۰ جلالین الدخان تحت الایۃ: ۴۳-۴۶ ص۴۱۲ ملتقطا) جہنمی درخت زقوم کا وصف: زقوم نامی درخت کے بارے میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ’’انها شجرة تخر ج فی اصل الجحیم(۶۴) طلعها كانه رءوس الشیطین(۶۵) فانهم لاكلون منها فمالــٴـون منها البطون‘‘(صافات:۶۴-۶۶) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑ میں سے نکلتا ہے۔اس کا شگوفہ ایسے ہے جیسے شیطانوں کے سرہوں ۔پھر بیشک وہ اس میں سے کھائیں گے پھر اس سے پیٹ بھریں گے۔ اور ارشاد فرمایا: ’’ثم انكم ایها الضآلون المكذبون(۵۱) لاكلون من شجر من زقوم(۵۲) فمالــٴـون منها البطون(۵۳) فشربون علیه من الحمیم(۵۴) فشربون شرب الهیم(۵۵) هذا نزلهم یوم الدین‘‘(واقعہ:۵۱-۵۶) ترجمہ کنزالعرفان: پھر اے گمراہو جھٹلانے والو! بیشک تم۔ضرور زقوم (نام)کے درخت میں سے کھاؤ گے۔پھر تم اس سے پیٹ بھرو گے۔پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے۔تو ایسے پیو گے جیسے سخت پیاسے اونٹ پیتے ہیں ۔انصاف کے دن یہ ان کی مہمانی ہے۔ اورحضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’اگر زقوم کا ایک قطرہ دنیا میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کی زندگانی خراب ہوجائے تو اس شخص کا کیا حال ہو گا جس کا کھانا ہی یہ ہو گا۔‘‘ (ترمذی کتاب صفۃ جہنم باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار ۴ / ۲۶۳ الحدیث: ۲۵۹۴) اللہ تعالی ہمارا ایمان سلامت رکھے اور ہمیں جہنم کے اس بدترین عذاب سے محفوظ فرمائےامین۔