Surah Al Jasia Ayat 30 (45:30)
The Crouching · Juz 25 · Makki
فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ 30
Urdu translation
Kanz-ul-Irfan
Mufti Muhammad Qasim Attariتو وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے ان کا رب انہیں اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ یہی کھلی کامیابی ہے۔
Kanz-ul-Iman
Imam Ahmad Raza Khanتو وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ان کا رب انھیں اپنی رحمت میں لے گا یہی کھلی کامیابی ہے۔
Tafseer (Urdu)
{فاما الذین امنوا و عملوا الصلحت: تو وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے۔} اس ایت میں اللہ تعالی نے قیامت کے دن اطاعت گزاروں کاانجام بیان فرمایا ہےچنانچہ ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ جو دنیا میں ایمان لائے اور انہوں نے اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کیا اور کسی چیز کو اللہ تعالی کا شریک نہیں ٹھہرایا اور جن کاموں کا اللہ تعالی نے حکم دیا وہ کام کئے اور جن کاموں سے منع کیا ان سے رک گئے تو اللہ تعالی انہیں اپنی رحمت کے صدقے جنت میں داخل فرمائے گا اور قیامت کے دن یہی بڑی کامیابی ہے۔( تفسیرکبیر الجاثیۃ تحت الایۃ: ۳۰ ۹ / ۶۸۱ تفسیر طبری الجاثیۃ تحت الایۃ: ۳۰ ۱۱ / ۲۶۷ ملتقطا) اخروی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش زیادہ کی جائے: اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن جہنم سے نجات مل جانا اور جنت میں داخلہ نصیب ہو جانا ہی حقیقی طور پر بڑی کامیابی ہے لہذا ہر شخص کوچاہئے کہ وہ دنیا کی ناپائیدار کامیابی حاصل کرنے کے مقابلے میں اخرت کی ہمیشہ رہنے والی کامیابی حاصل کرنے کی زیادہ کوشش کرے جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا کہ ’’ ان هذا لهو الفوز العظیم(۶۰)لمثل هذا فلیعمل العملون‘‘(صافات:۶۰۶۱) ترجمہ کنزالعرفان: بیشک یہی بڑی کامیابی ہے۔ ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہمیں اخرت میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے بھر پور کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائےامین۔ ایت ’’فاما الذین امنوا و عملوا الصلحت‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات: اس ایت سے دو باتیں معلوم ہوئیں (1)…جب تک اللہ تعالی کی رحمت کسی شخص کی دستگیری نہ کرے اس وقت تک کوئی شخص محض اپنی نیکیوں کی وجہ سے جنتی نہیں ہو سکتا ۔ (2)… ایمان کے ساتھ تقوی بھی ضروری ہے اور کوئی شخص نیک اعمال سے بے پرواہ نہیں ہوسکتا ۔